بیجنگ ۔ 24 مئی (اے پی پی):گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سردست گلوبل سطح پر سیاسی و معاشی منظرنامے میں بڑی تبدیلیوں کے باوجود، چین اور پاکستان ایک دوسرے کے سب سے قابل اعتماد شراکت دار ہیں، اپنے تقریباً چالیس سالہ سیاسی کیرئیر کے ساتھ میں ’’مفاد خلق پر مبنی مستقبل‘‘ کا حامی ہوں،’جنرل وِل، کا تصور اب بھی گڈ گورننس اور ترقی پسند سیاست کا محور و مرکز …
سیاسی و معاشی منظرنامے میں تبدیلیوں کے باوجود، چین اور پاکستان ایک دوسرے کے قابل اعتماد شراکت دار ہیں،گورنر بلوچستان

مزید خبریں
بیجنگ ۔ 24 مئی (اے پی پی):گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سردست گلوبل سطح پر سیاسی و معاشی منظرنامے میں بڑی تبدیلیوں کے باوجود، چین اور پاکستان ایک دوسرے کے سب سے قابل اعتماد شراکت دار ہیں،
اپنے تقریباً چالیس سالہ سیاسی کیرئیر کے ساتھ میں ’’مفاد خلق پر مبنی مستقبل‘‘ کا حامی ہوں،’جنرل وِل، کا تصور اب بھی گڈ گورننس اور ترقی پسند سیاست کا محور و مرکز ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چائنا پاکستان پولٹیکل پارٹیز فورم کی منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبہ کے وزیر لیو ہائی شنگ ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی نائب وزیر سن ہائی یان اور وفاقی وزیر احسن اقبال سمیت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور پاکستان مسلم لیگ اور دیگر سیاسی تنظیموں کے رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ شرکاء سے خطاب میں گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ چین ہمارے نوجوانوں کیلئے اسکالرشپ، پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کیلئے بھرپور اسپورٹ اور بلوچستان کیلئے تجارتی مواقعوں کے ذریعے عملی مظاہرہ کر سکتا ہے۔ اعتماد حاصل کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کا تیز ترین ذریعہ روزگار کے حقیقی فوائد ہیں۔ گورنربلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت عوامی سطح پر نئے پولیٹیکل ڈسکورس کی اشد ضرورت ہے۔ سیاسی تنظمیں عوام کیلئے اہم پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ پاک چین تعلقات کو آگے بڑھانے اور جھوٹے بیانیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا اور اپنی ساکھ کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان روز اول سے باہمی طور پر دیرپا تعاون کی مثال قائم کر چکے ہیں۔ ہماری شراکت داری تجارت، انفراسٹرکچر، توانائی، تعلیم اور دفاع پر محیط ہے۔ ہم نے پولٹیکل اکانومی کے ساتھ ساتھ عوام سے عوام دوستی بھی قائم کی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ کیلئے ہم ملکر اقوام متحدہ (یو این او) اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں سرگرم عمل ہیں۔ گورنر مندوخیل نے قدیم شاہراہ ریشم کو ’’ڈیجیٹل سلک روٹ‘‘ کے طور پر بحال کرنے کی تجویز پیش کی۔ ڈیجیٹل سلک روٹ کا وژن ہی تعاون اور اشتراک کے اگلے محاذ کے طور پر ڈیجیٹل اور تکنیکی اختراع کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے انقلابی رہنما چیئرمین ماؤ کی سوچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کہ حقائق سے سچائی تلاش کرنے کے اصول پر عملدرآمد کرتے ہوئے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور گرین ٹیکنالوجیز ہی شاندار منصوبہ سی پیک کو اس کے اگلے مرحلے میں کیسے لے جا سکتی ہیں۔ حقائق سے سچائی تلاش کرنے کا انتخاب کرکے، ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں بنیادیں رہیں اور ہماری ترقی عوام مفادات پر مرکوز رہے۔ گورنر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے کے حوالے سے اس معزز فورم کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم موقع پر ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار اور مسلم لیگ (ن) کے معزز رہنماؤں کا بھی ان کی فعال شرکت پر شکریہ ادا کیا۔








