سید فخر امام کی زیرصدارت پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس‘ نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، گرینڈ حیات ہوٹل اور رائل پام کنٹری کلب سے متعلق آڈٹ رپورٹس کو انکے دیرینہ ایشوز پر فیصلہ کرنے کے لئے مرکزی کمیٹی کو بھجوا دیا

اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی نے نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، گرینڈ حیات ہوٹل اور رائل پام کنٹری کلب سے متعلق آڈٹ رپورٹس کو انکے دیرینہ ایشوز پر فیصلہ کرنے کے لئے مرکزی کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔ پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پیر کو سید فخر امام کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ …

اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی نے نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، گرینڈ حیات ہوٹل اور رائل پام کنٹری کلب سے متعلق آڈٹ رپورٹس کو انکے دیرینہ ایشوز پر فیصلہ کرنے کے لئے مرکزی کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔ پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پیر کو سید فخر امام کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ یہ اجلاس تین اہم منصوبوں کے آڈٹ پیرا کو حل کرنے کے لئے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کو حتمی شکل دینے کے بارے میں تبادلہ خیال کے لئے بلایا گیا تھا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کی رکن شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ان تینوں منصوبوں سے متعلق کچھ آڈٹ پیرا قومی احتساب بیورو (نیب) کو ارسال کئے گئے تھے اور انہوں نے کمیٹی کو ان منصوبوں پر پوری طرح اپ ڈیٹ کرنا تھا ۔ سید فخر امام نے اس بات پر زور دیا کہ اے جی پی آر کو عوامی اداروں کے مالی آڈٹ کے ساتھ ساتھ کارکردگی آڈٹ بھی کرانا چاہئے جس سے نظام میں بہتری آئے گی۔ شاہدہ اختر علی نے بتایا کہ نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی لاگت 35 ارب روپے سے بڑھا کر 107 ارب روپے کردی گئی اور پھر بھی ایئرپورٹ نامکمل تھا۔ اسی طرح گرینڈ حیات کی تعمیراتی لاگت میں 4.80 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت رہا۔ سید سید فخر امام نے کہا کہ ”مجھے نہیں لگتا اسلام آباد بین الاقوامی ایئر پورٹ پر 100 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں، دنیا کے دیگر بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے ساتھ نئے تعمیر ہونے والے ہوائی اڈے کا موازنہ کرنے پر دکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈے سیاحت کے فروغ کے لئے داخلی مقام ہوتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے داخلی مقامات کوئی زیادہ پرکشش نہیں ہیں۔ شاہدہ اختر علی نے ریمارکس دیئے کہ متوازی رن وے متوازی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لئے تعمیر کئے گئے تھے لیکن دونوں رن وے کے مابین فاصلہ کم رکھاگیا جس کی وجہ سے متوازی لینڈنگ میں ناکامی ہوئی ہے لیکن دوسرا رن وے ٹیکسی وے کے لئے استعمال کیا گیا جو ایک مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلیک لسٹ کمپنی نے نئے ایئر پورٹ کا ڈیزائن تیار کیا، لیکن اس سلسلے میں ابھی بھی بہت سارے فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔بعد ازاں کمیٹی نے حتمی فیصلہ کے لئے ان منصوبوں کے حوالے سے رپورٹس پبلک اکائنٹ کمیٹی کو بھجوا دیں۔