سیشن جج کی شہادت دہشت گردی کے خطرناک رجحان کی عکاس ،بلوچ یکجہتی کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعد معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا
سیشن جج کی شہادت دہشت گردی کے خطرناک رجحان کی عکاس ،بلوچ یکجہتی کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعد معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا

مزید خبریں
مستونگ ۔23جولائی (اے پی پی):سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے محافظ کی مستونگ میں شہادت بلوچستان میں ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ جیسا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شکست دینے میں ناکامی کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) اور اس سے منسلک دہشت گرد تنظیموں نے اب اپنے حملوں کا رخ شہریوں اور ریاستی اداروں کی طرف موڑ دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ افسوس ناک حملہ بلوچستان بھر میں شدید خوف و ہراس پھیلانے اور عوامی انتظامیہ کو مفلوج کرنے کے لیے حکمت عملی میں ایک سوچی سمجھی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مہینوں ریاست مخالف عناصر کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے رہے۔ ان دہشت گرد نیٹ ورکس نے ، جو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی آڑ میں کام کر رہے ہیں، افراتفری پیدا کرنے کی ایک مایوس کن کوشش میں اپنے تشدد کا دائرہ کار آسان ہدف بننے والے افراد، نہتے شہریوں اور عدالتی افسران تک پھیلا دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ حملہ تشدد کی اس ناگہانی لہر کا حصہ ہے جس کا رخ جان بوجھ کر غیر فوجی اور شہری اہداف کی طرف موڑا گیا ہے جن میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ، مشکیل میں پانچ بے گناہ مزدوروں اور کھڈکوچہ میں بس مسافروں کا ہدف بنا کر قتل کیا جانا شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شہری اداروں کو نشانہ بنانے کی طرف یہ تبدیلی 22 جون 2026ء کو کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ لانگو کو سزا سنائے جانے کے بعد انتہائی سنگین رخ اختیار کر گئی۔ زمین پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا براہ راست مقابلہ کرنے سے قاصر اس قیادت نے اپنے حملوں کا رخ عدالتی نظام کی طرف موڑ دیا۔ فیصلے والے دن ماہ رنگ کے قریبی ساتھی سمیع دین نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک اشتعال انگیز بیان جاری کیا جس میں صریحاً ججوں کے خلاف عداوت اور دشمنی کو ہوا دی گئی۔
جسٹس کاکڑ کی شہادت سمیع دین کے بیان کے ٹھیک ایک ماہ بعد ہوئی جس نے سکیورٹی اور مقامی مبصرین کی ان خبردار کرنے والی باتوں کی تصدیق کر دی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بیانیہ بی ایل اے اور اس سے منسلک دہشت گرد تنظیموں کے لیے آسان اہداف پر حملے کرنے کا ایک براہ راست عملی اشارہ ہے۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پائیدار اور باہمت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے زمین کھو دینے کے بعد یہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سیاسی سہولت کار اب یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ مذہب، انسانیت یا قومیت کی کسی تفریق کو نہیں مانتے۔ ججوں، نہتے مزدوروں، خواتین اور بس مسافروں کو نشانہ بنا کر، ان کا واحد باقی ماندہ مقصد روزمرہ زندگی کو معطل کرنا، علاقائی ترقی کو روکنا اور بلوچستان میں سماجی تانے بانے پر حملہ کر کے بیرونی آقائوں کی خدمت کرنا ہے۔








