واشنگٹن ۔12فروری (اے پی پی):مصنوعی ذہانت کے سینئر سیفٹی ریسرچر نے دنیا کو مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات بارے ایک مبہم انتباہ کے بعد اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔رشیاٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے گریجویٹ اور کلائوڈ چیٹ بوٹ بنانے والی معروف امریکی کمپنی اینتھروپک میں سیف گارڈز ریسرچ ٹیم کے سربراہ مری نانک شرما نے ایکس پر پوسٹ کیے گئے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے کہ …
سینئر سیفٹی ریسرچر کا دنیا کو مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات بارے انتباہ کے بعد اپنی ملازمت سے استعفیٰ

مزید خبریں
واشنگٹن ۔12فروری (اے پی پی):مصنوعی ذہانت کے سینئر سیفٹی ریسرچر نے دنیا کو مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات بارے ایک مبہم انتباہ کے بعد اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔رشیاٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے گریجویٹ اور کلائوڈ چیٹ بوٹ بنانے والی معروف امریکی کمپنی اینتھروپک میں سیف گارڈز ریسرچ ٹیم کے سربراہ مری نانک شرما نے ایکس پر پوسٹ کیے گئے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے کہ دنیا کو مصنوعی ذہانت سے خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ خطرات "باہم مربوط بحرانوں” کی صورت میں ہو سکتے ہیں اور وہ خود اپنی ملازمت چھوڑ کر ایک مدت کے لیے گمنام رہنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے ذاتی طور پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔انہو ں اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دنیا صرف مصنوعی ذہانت یا حیاتیاتی ہتھیاروں کی وجہ سے نہیں، بلکہ باہم مربوط بحرانوں کے ایک پورے سلسلے کی وجہ سے سخت خطرے میں ہے جو اس وقت رونما ہو رہے ہیں۔ مری نانک شرما کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سان فرانسسکو میں قائم اس مصنوعی ذہانت کی لیب کے حوالے سے اختلافات سامنے آرہے ہیں۔ یہ ادارہ ایک طرف تو تیزی سے مصنوعی ذہانت کا طاقتور ترین نظام تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے اپنے ایگزیکٹوز خبردار کر رہے ہیں کہ وہی ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ واقعہ ایسی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ اینتھروپک اور پینٹاگون کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ یہ تنازع فوج کی اس خواہش پر ہے کہ وہ خود مختار ہتھیاروں کے نظام کو ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرے، جبکہ اینتھروپک اس پر اپنی مطلوبہ حفاظتی پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہے۔مری نانک شرما کا استعفیٰ اینتھروپک کی جانب سے اوپس 4.6 کی ریلیز کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جو اس کے فلیگ شپ کلاؤڈ ٹول کا زیادہ طاقتور ورژن ہے اور یہ حفاظتی ترجیحات پر اندرونی اختلاف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔مری نانک شرما نے مزید لکھا کہ اپنے پورے دور ملازمت میں، میں نے بار بار دیکھا ہے کہ اپنی اقدار کو واقعی اپنے اعمال کا محرک بنانا کتنا مشکل ہے۔ میں نے یہ خود اپنے اندر دیکھا، ادارے کے اندر دیکھا، جہاں ہم مسلسل دباؤ میں ہوتے ہیں کہ جو سب سے اہم ہے اسے ایک طرف رکھ دیں اور وسیع تر معاشرے میں بھی یہی دیکھا۔
شرما کی ٹیم صرف ایک سال قبل تشکیل دی گئی تھی جس کا مینڈیٹ مصنوعی ذہانت کے حفاظتی خطرات سے نمٹنا تھا، جن میں "ماڈل کے غلط استعمال اور عدم توازن‘‘ اور حیاتیاتی دہشت گردی کی روک تھام، اور "تباہی سے بچاؤ ” جیسے خطرات بھی شامل ہیں ۔ شرما نے فخر کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بننے والے حیاتیاتی ہتھیاروں کے خلاف دفاع تیار کرنے اور اپنے آخری منصوبے بعنوان ’’یہ سمجھنے پر کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے معاون ہمارے انسان ہونے کی صلاحیت کو کم کر سکتے ہیں یا ہماری انسانیت کو بگاڑ سکتے ہیں ‘‘پر کام کرنے کا ذکر کیا۔مری نانک شرما نے کہا کہ اب وہ برطانیہ واپس جا کر شاعری کے مطالعے میں ڈگری حاصل کرنے اور ایک مدت کے لیے گمنام رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
قبل ازیں اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو امودی بارہا اس ٹیکنالوجی کے خطرات سے خبردار کر چکے ہیں جسے ان کی کمپنی تجارتی بنا رہی ہے۔ گزشتہ ماہ تقریباً 20 ہزار الفاظ پر مشتمل اپنے مضمون میں، انہوں نے خبردار کیا کہ "تقریباً ناقابل تصور طاقت” والے مصنوعی ذہانت کے نظام "قریب” ہیں اور یہ "جانچیں گے کہ ایک نوع ہونے کے ناطے ہم کون ہیں۔ اوڈاریو امودی نے "خود مختاری کے خطرات” سے خبردار کیا جہاں مصنوعی ذہانت "بے قابو ہو کر انسانیت پر غالب آ سکتی ہے،” اور کہا کہ یہ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی نگرانی اور خود مختار ہتھیاروں کے ذریعے "ایک عالمی آمرانہ حکومت”کے قیام کا باعث بن سکتی ہے۔








