اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کو درپیش اہم غذائی تحفظ کے مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹرز پونجو بھیل، دوست محمد خان، راحت جمالی، عبد الوسیع، دنیش کمار، ایمل ولی خان، سردار الحاج محمد اجمر گورگیج اور حافظ عبد الکریم نے …
سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس، ملک کو درپیش اہم غذائی تحفظ کے مسائل پر تفصیلی غور و خوض

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کو درپیش اہم غذائی تحفظ کے مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹرز پونجو بھیل، دوست محمد خان، راحت جمالی، عبد الوسیع، دنیش کمار، ایمل ولی خان، سردار الحاج محمد اجمر گورگیج اور حافظ عبد الکریم نے شرکت کی۔اجلاس میں چاول درآمدکنندگان کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے باسمتی چاول کی برآمدات میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا جو کبھی پاکستان کا سب سے زیادہ منافع بخش برآمدی آئٹم تھا۔سینیٹر دنیش کمار نے کمیٹی کو بتایا کہ 5 ارب روپے مالیت کی برآمدات پالیسیوں کی پابندیوں کے باعث رکی ہوئی ہیں، پالیسیاں معیشت اور برآمدکنندگان کو سہارا دینے کے لیے ہونی چاہئیں۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ این اے ایف ایس اے آرڈیننس کو حتمی شکل دینے سے پہلے برآمدکنندگان اور درآمدکنندگان کی تمام اہم ایسوسی ایشنز سے رائے لی جائے گی۔ چیئرمین سینیٹر مسرور احسن نے ہدایت کی کہ تمام سٹیک ہولڈرز اپنی سفارشات تحریری طور پر آئندہ اجلاس سے پہلے جمع کرائیں۔
اجلاس میں سب سے اہم معاملہ ڈائریکٹر جنرل پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) کی تعیناتی پر عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر غور کیا گیا۔ چیئرمین سید مسرور احسن نےکہا کہ یہ تعیناتی عدالت کے ذریعہ کالعدم قرار دی جا چکی ہے، اس کے باوجود کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ کمیٹی نے واضح طور پر سفارش کی تھی کہ اس افسر کو عہدے سے ہٹایا جائے، لیکن اب تک عملدرآمد نہیں ہوا۔
وزارت کے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ وزیر کی واپسی کے بعد معاملہ جلد حل کر دیا جائے گا۔کمیٹی نے ڈاکٹر طارق خان، مسز اللہ دتہ عابد اور سہیل شہزاد (سابق ڈائریکٹرز، ٹیکنیکل) کے خلاف انکوائری رپورٹس کا جائزہ لیا۔ ان افسران کے موقف سننے کے بعد کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ الزامات معمولی نہیں ہیں، ہمیں یہ طے کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ الزامات منصفانہ بنیادوں پر لگائے گئے یا نہیں۔شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی سینیٹر پونجو بھیل کی سربراہی میں تشکیل دی گئی جس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی شامل ہوں گے۔
یہ کمیٹی تمام انکوائریوں کا ازسرنو جائزہ لے گی۔وزارت فوڈ سکیورٹی کے سیکرٹری نے بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا کہ ان افسران کے خلاف دو الگ الگ انکوائریاں کی گئی تھیں۔ایک انکوائری چاول کی کھیپ میں بے ضابطگیوں پر تھی جبکہ دوسری انکوائری 2005ء سے 2025ء تک کے عرصے پر محیط تھی جس میں 49 افسران (بشمول ریٹائرڈ) شامل تھے، کچھ افسران کو سبکدوش کر دیا گیا جبکہ دیگر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ان افسران کو سزا دینے سے حل نہیں ہوگا جو اصل ذمہ دار نہیں تھے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بھی مزید جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔وزارت فوڈ سکیورٹی کے حکام نے سیلابی تباہ کاریوں پر بریفنگ دی اور بتایا کہ 25 لاکھ ایکڑ زرعی زمین ملک بھر میں متاثر ہوئی، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی 7 فیصد زرعی زمین کو شدید نقصان پہنچا، صرف خیبر پختونخوا میں 35 لاکھ ایکڑ زمین متاثر ہوئی، پنجاب میں سب سے زیادہ متاثرہ فصلیں چاول، گنا اور مکئی ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ یہ ایک قومی المیہ ہے، متاثرہ علاقوں کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دیا جائے اور متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت فوری امداد فراہم کی جائے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی اس مطالبے کی تائید کی اور کہا کہ زرعی تباہی سے نمٹنے کے لیے قومی سطح کے ہنگامی ردعمل کی ضرورت ہے۔
کمیٹی نے صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل پر پابندیوں کے مسئلے کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں گندم کی کمی پر سوال اٹھایا۔ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ بلوچستان کے عوام بھی اسی ناانصافی کا شکار ہیں، یہ رویہ قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔چیئرمین کمیٹی کہا کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت صوبوں کے درمیان آزاد تجارت کو یقینی بنایا جائے، تجارت اور کاروبار کو صوبوں کے درمیان آزادانہ طور پر چلنے دینا چاہیے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مسرور احسن نے کمیٹی کے فیصلوں کا جامع خلاصہ پیش کیا۔
ذیلی کمیٹی افسران کے خلاف انکوائریوں کا تفصیلی جائزہ لے گی ،ڈی پی پی کے فضائی آپریشنز اور بجٹ مختص کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ ہم قومی مفادات کو پٹری سے اترنے نہیں دیں گے، عوام، معیشت اور قومی وحدت پہلے ہیں اور یہ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی۔








