سینیٹر شیری رحمان کی بھارتی آرمی چیف کے پاکستان مخالف ریمارکس کی مذمت

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے پاکستان کے خلاف ’’مخالفانہ اور اشتعال انگیز ریمارکس‘‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے بیانات سے علاقائی امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے

اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے پاکستان کے خلاف ’’مخالفانہ اور اشتعال انگیز ریمارکس‘‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے بیانات سے علاقائی امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں شیری رحمٰن نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی مسلسل سفارتی، سیاسی اور دفاعی کامیابیوں نے بھارت کو مایوس اور بے چین کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اب پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور نمایاں ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔پی پی پی رہنما نے کہا کہ بڑی عالمی طاقتیں علاقائی امن، تنازعات کے حل اور سفارتی پیش رفت سے متعلق معاملات پر پاکستان کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ بھارت کی جنگی ذہنیت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی دہلی اکثر جارحانہ اقدامات شروع کرتا ہے اور بعد میں کشیدگی میں کمی کے لیے بین الاقوامی برادری سے رجوع کرتا ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ امن اور مذاکرات کی وکالت کرنے والی آوازیں بھارت کے اندر سے بھی ابھر رہی ہیں، جن میں سابق فوجی حکام، آر ایس ایس سے منسلک حلقے اور کشمیر کے گروپ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جاری عالمی تنازعات کے اثرات کے درمیان ہندوستانی عوام پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔شیری رحمان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کی پالیسیوں پر عمل کرنے کے بجائے امن کے لیے اپنے عوام کی امنگوں کا احترام کرے۔شیری رحمٰن نے دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں کا موثر مظاہرہ کیا اور بھارتی طیاروں کو مار گرایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر پاکستان کی فضائی برتری کا اعتراف کیا ہے۔سینیٹر شیری رحمن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری یا قومی دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا پاکستان کی مسلح افواج اور اس کے عوام کی جانب سے "مضبوط اور مناسب جواب” دیا جائے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا مزید کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مستقل طور پر امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔خطے میں دیرپا امن کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی اور خوشحالی صرف مساوات، باہمی احترام اور بامعنی بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔