اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ و ورکس کا اجلاس چیئرمین ناصر محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں زمینوں کو خالی کرانے، تنخواہوں کی ادائیگی، سرکاری رہائش اور شہید ملت سیکرٹریٹ میں لفٹس کی تنصیب کے امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹرز بلال احمد خان، جان محمد، خالدہ عطیب، حسنہ بانو اور ہدایت اللہ خان نے شرکت کی جبکہ سینیٹر شہادت اعوان بطور …
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ و ورکس کا اجلاس، زمینوں اور تنخواہوں کے مسائل زیر بحث

مزید خبریں
اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ و ورکس کا اجلاس چیئرمین ناصر محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں زمینوں کو خالی کرانے، تنخواہوں کی ادائیگی، سرکاری رہائش اور شہید ملت سیکرٹریٹ میں لفٹس کی تنصیب کے امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹرز بلال احمد خان، جان محمد، خالدہ عطیب، حسنہ بانو اور ہدایت اللہ خان نے شرکت کی جبکہ سینیٹر شہادت اعوان بطور موور موجود تھے۔کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سال کے دوران ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے پانچ سیکرٹریز کو تعینات اور بعد میں تبدیل کیا گیا جس پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری کی بار بار تبدیلی وزارت کے کام کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے اور مستقل افسر کے تعینات رہنے کی ضرورت ہے۔
کمیٹی نے لاہور کے سینٹرل سول ڈویژن-I، پاک پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے 15 نچلی سطح کے ملازمین کی پانچ ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ کہا گیا کہ تاخیر کئی انتظامی احکامات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ فوری حل کیا جائے اور متاثرہ ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا کی جائیں۔ مزید بتایا گیا کہ 162 ملازمین کی ادائیگی اب بھی زیر التوا ہے۔
لاہور میں پاک پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کی زمین سے متعلق تضاد بھی سامنے آیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کمیٹی کو بتایا کہ 496 کنال زمین کی ادائیگی کی گئی لیکن عدالت نے 296 کنال کو کالعدم قرار دیا۔ اس کے علاوہ بورڈ آف ریونیو نے 132 کنال حاصل کر کے وہاں ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کر دی۔ چیئرمین نے ممبر بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل کریں۔کمیٹی نے مری میں کانسٹینٹیا لاج کی 37 کنال زمین کے حوالے سے بھی جائزہ لیا جس پر وزارت ہاؤسنگ و ورکس کا حق دعویٰ ہے۔ اے ڈی سی (ریونیو) مری نے یقین دہانی کرائی کہ معاملہ تفصیل سے دیکھا جائے گا اور 7 کنال زمین تجاوزات سے واپس حاصل کی جا چکی ہیں۔
پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی کالونی لاہور کی 12 رہائشی یونٹیں خالی کرا کر متعلقہ حکام کے حوالے کی جا چکی ہیں اور 3 کروڑ روپے کے بقایاجات کی ادائیگی بھی مکمل ہو گئی ہے۔لفٹس کی تنصیب اور دیکھ بھال کے ٹینڈر کے حوالے سے بتایا گیا کہ پروجیکٹ کے لئے دو کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ کل لاگت 9 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے جس میں سے 80 لاکھ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔
دو لفٹس کی مرمت سی ڈی اے نے کی جبکہ دو لفٹس کی مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ لفٹس دو ہفتے میں نصب کی جائیں۔اسلام آباد جیل کے جاری پروجیکٹ کی کل لاگت 7.4 ارب روپے ہے جس میں سے 4 ارب روپے فنڈنگ وصول ہو چکی ہے۔ 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے لیکن مزید 2.6 ارب روپے کی ضرورت ہے تاکہ پروجیکٹ بروقت مکمل کیا جا سکے۔








