اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر جہانزیب جمالدینی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر تفصیلی رپورٹ ، ایبٹ آباد میں محمد افضل کوہستانی کے قتل پر آئی جی خیبر بختونخوا کی تفصیلی رپورٹ کے علاوہ چیئرمین …
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر جہانزیب جمالدینی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر تفصیلی رپورٹ ، ایبٹ آباد میں محمد افضل کوہستانی کے قتل پر آئی جی خیبر بختونخوا کی تفصیلی رپورٹ کے علاوہ چیئرمین ایس ای سی پی کی طرف سے کمپنیوں کے بورڈ کی پابندی بنانے کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے بورڈ ممبران میں خاتون ممبر کی عدم موجودگی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ 46فیصد سے زیادہ کمپنیوں کے بورڈ ممبران میں خواتین کی نمائندگی موجود ہے جو کہ 2020کے آخر تک 93فیصد تک پہنچ جائے گی جبکہ صرف 8 فیصد کمپنیاں جن کی تعداد41 ہے، میں ابھی تک خواتین ممبرز کی عدم موجودگی دیکھی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ ان کمپنیوں کے بورڈ کی تشکیل نو کیلئے کرائے جانے والے الیکشن ہیں جو کہ 2018 میں بورڈ میں خواتین کی نمائندگی کو لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ہوچکے تھے چونکہ وہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر قرار پائے جا سکتے ہیں لہذا ان کمپنیوں کو یہ رعایت دی گئی ہے کہ آنے والے وقت میں دوبارہ بورڈ کی تشکیل میں خواتین کی نمائندگی لازمی قرار دی جائے گی اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کم از کم ایک خاتون ممبرہونا لازمی قرار دیا گیا ہے تاہم ایک سے زائد خواتین ممبر رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ افضل کوہستانی قتل کیس جو کہ 6 مارچ2018 کو ایبٹ آباد میں ہوا کی تفصیلی رپورٹ کمیٹی کو فراہم کی گئی۔ سول سوسائٹی کی نمائندہ ڈاکٹر فرزانہ باری نے کمیٹی کو قتل کے پس منظر اور مقتول کے خاندان کو پیش آنے والی مشکلات اور حالات پر تفصیل سے آگاہ کیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ قتل کیس 2012 میں ہونے والے 4 لڑکیوں کے غیرت کے نام پر ہوئے قتل سے جڑا ہے۔ مزید براں بتایا گیا کہ مقتول افضل کوہستانی کے تین بھائی بھی 2012 کے بعد اب تک قتل کیے جا چکے ہیں۔ اس پر کمیٹی نے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کیس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھیجنے کی سفارش کر دی۔ اس کے ساتھ ساتھ کیس کی تفتیش کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی بھی سفارش کی۔ کمیٹی نے افضل کوہستانی کو بروقت سیکورٹی نہ فراہم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور مقتول افضل کوہستانی کے بھائیوں اور خاندان کو مکمل سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔پی ٹی وی کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کو زیر بحث لاتے ہوئے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مسئلہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا نہیں بلکہ ملازمین کی اضافی مراعات کی ادائیگی کا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ادارہ پہلے ہی 6 ارب روپے کے خسارے سے دو چار ہے اور مزید ادئیگیوں میں تاخیر کی وجہ بھی فنڈز کی قلت ہے جس کیلئے ادارے کی جانب سے مالی معاونت کی درخواست کر دی گئی ہے۔ جس پر ادارے نے وزار ت خزانہ کو بزنس پلان بنا کر دینا ہے تاکہ بروقت ادائیگیوں کیلئے فنڈز مہیا کیے جا سکیں۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرزکامران مائیکل ، کشیو بائی ، پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی ، ثنا ء جمالی ، عثمان خان کاکڑ ، ہدایت اللہ اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے علاوہ سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات ،سینئر جوائنٹ سیکرٹر ی وزارت خزانہ ، جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ ،ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن ، ڈی پی او ایبٹ آباد ، ایم ڈی پی ٹی وی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔








