سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس، بجلی اورمواصلات کے شعبوں میں غیرملکی معاونت سے جاری منصوبوں کوبروقت مکمل کرنے کی ہدایت
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس، بجلی اورمواصلات کے شعبوں میں غیرملکی معاونت سے جاری منصوبوں کوبروقت مکمل کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے بجلی اورمواصلات کے شعبوں میں غیرملکی معاونت سے جاری منصوبوں کوبروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے،کمیٹی نے 765 کے وی داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر عملدرآمد میں تاخیر اور بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار اور قرار دیا کہ منصوبے میں پہلے ہی خاصا وقت ضائع ہو چکا ہے اور مزید تاخیر قومی وسائل کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس پیرکویہاں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں بجلی اور مواصلات کے شعبوں میں غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بالخصوص 765 کے وی داسواسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے اورمواصلات کے شعبے میں جاری منصوبوں خصوصاً این-45 چکدرہ-چترال روڈ کے کالکٹک -چترال سیکشن کی بہتری و کشادگی اور منصوبے کے باقی دو حصوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے 765 کے وی داسو-اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر عملدرآمد میں تاخیر اور بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبہ جون 2028ء تک مکمل ہونا ہے۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ منصوبے میں پہلے ہی خاصا وقت ضائع ہو چکا ہے اور مزید تاخیر قومی وسائل کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ کمیٹی نے تاخیر اور بے ضابطگیوں کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے میں بھاری عوامی وسائل صرف ہو رہے ہیں اور اسے مزید رکاوٹوں کا شکار ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اجلاس کوبتایاگیاکہ ڈیزائن، مٹی کی جانچ اور دیگر تکنیکی امور کی وجہ سے منصوبہ میں تاخیر ہوئی ہے۔ کمیٹی نے ضروری سروے مکمل کرنے میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر پر سوال اٹھایا اور نیشنل گرڈ کمپنی(این جی سی) کو ہدایت کی کہ تمام ضروری تکنیکی اور معاہدات کے تحت مراحل بروقت مکمل کرنے کی ذمہ داری قبول کرے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ این جی سی نے 7 ستمبر 2026ء کو این ایچ اے ہیڈکوارٹرز میں جنرل منیجر کے ساتھ اجلاس کیا جس میں 765 کے وی داسواسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر عملدرآمد کے دوران این او سیز کے اجراء اور سڑکوں کی بندش کے لیے ضروری تعاون کے امور پر بات چیت ہوئی جبکہ متعلقہ حصوں کے نظرثانی شدہ تخمینے بھی ادائیگی کے عمل کے لیے ٹھیکیدار کو فراہم کر دیئے گئے ہیں۔کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ 10 ستمبر 2026ء کو ہونے والے اعلی سطح کے اجلاس کے بعد خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلات نے بھی لوئر کوہستان کے دوسیکشنزمیں بالترتیب 7اور16مقامات پر ٹاورز کی بنیادوں اور رسائی سڑکوں کے لیے محکمہ جنگلات کے این او سیز جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے بھی چھٹیوں کے دوران متعلقہ حکام سے ذاتی طور پر رابطہ کیا اور اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی ہدایت کی۔
ایبٹ آباد گلیات میں 6 ٹاورز، سرن میں 7 ٹاورز اور ہری پورمیں 6ٹاورز کے لیے این او سیز پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ مقامات کا ازسرنو فیلڈ وزٹ کرکے جامع رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔کمیٹی نے مزید فیصلہ کیا کہ زیر التواء ادائیگیاں پاور ڈویژن/عملدرآمد کرنے والے ادارے کو جاری کرنے کا معاملہ حل کرنے اور منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کو آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں کو ضروری رپورٹس، خط و کتابت اور منصوبے سے متعلق دستاویزات بھی مزید جائزے کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے این 45کے سیکشن ون (چکدرہ-تیمرگرہ) جو 38.85 کلومیٹر پر مشتمل ہے، کی صورتحال آگاہ کیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیکشنز کے لیے کنسلٹنسی کا معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے جبکہ 17.012 ارب روپے کی تخمینی لاگت کا پی سی ون منظوری کے لیے 31 مارچ 2026ء کو سی ڈی ڈبلیو پی/ایکنک کے ذریعے وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کو بھجوایا گیا تھا ، پی سی ون کی انتظامی منظوری کے بعد ہی خریداری کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پی سی ون جمع کرائے جانے کے تقریبا چھ ماہ گزرنے کے باوجود تاحال منظوری کا منتظر ہے۔ اقتصادی امور ڈویژن نے بھی کمیٹی کے سامنے تسلیم کیا کہ اتنی طویل تاخیر کا کوئی جواز نہیں ہے کمیٹی نے قرار دیا کہ تاخیر سے منصوبے پر عملدرآمد متاثر ہوا ہے اور اس سے ان مقاصد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جن کے لیے غیر ملکی مالی معاونت حاصل کی گئی تھی۔
کمیٹی نے مزید نوٹ کیا کہ منصوبے کے لیے مالی معاونت کا معاہدہ 2021ء میں طے پایا تھا جبکہ منصوبے کی تکمیل کی تاریخ 30 جون 2028ء مقرر ہے۔ ارکان نے اس امر پر تحفظات کا اظہار کیا کہ تقریبا پانچ سال گزرنے کے باوجود منصوبے کی تیاری اور منظوری کے اہم مراحل تاحال مکمل نہیں کیے جا سکے۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ مسلسل تاخیر سے منصوبے کے بروقت آغاز اور تکمیل پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں لاگت میں اضافہ، عملدرآمد کے مسائل اور قومی خزانے پر ناقابلِ جواز مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔کمیٹی نے زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے حاصل کیے جانے والے قرضے بالآخر عوامی وسائل سے واپس کیے جاتے ہیں، اس لیے ان کا موثر اور بروقت استعمال ضروری ہے۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مالی معاونت فراہم کرنے والے ادارے کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو دور کرکے معاملہ جلد از جلد حل کیا جائے۔
کمیٹی نے پی سی ون، منصوبے سے متعلق دستاویزات، خط و کتابت اور رپورٹ شدہ بے ضابطگیوں سے متعلق نتائج کی نقول بھی طلب کر لیں۔چیئرمین کمیٹی نے زور دیا کہ غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں پر موثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے، کیونکہ مسلسل تاخیر مستقبل میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت کے حصول کو متاثر کر سکتی ہے۔این 45کے سیکشن تھری (کالکٹک-چترال) کے 47.98 کلومیٹر حصے کی تازہ ترین ٹینڈرنگ صورتحال پر بحث کے دوران کمیٹی کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بریفنگ میں درج تھا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے 4 مئی 2026ء کو ٹینڈرنگ کے دوسرے عمل کو منسوخ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
کمیٹی نے اس بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے این ایچ اے حکام کو یاد دلایا کہ 4 مئی 2026ء کے اجلاس میں این ایچ اے کے چیئرمین نے خود تسلیم کیا تھا کہ ٹینڈرنگ کے عمل میں مقررہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔ چنانچہ این ایچ اے نے این 45کے اس سیکشن کی ٹینڈرنگ منسوخ کرکے ایک ہفتے کے اندر نئے سرے سے ٹینڈرنگ کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔کمیٹی نے این ایچ اے حکام کو ہدایت کی کہ بریفنگ کو اسی مناسبت سے درست کرکے نظرثانی شدہ رپورٹ کمیٹی کو دوبارہ پیش کی جائے۔
این ایچ اے کے حکام نے بتایا کہ ٹھیکیدار کو تین ماہ کے اندر منصوبے کی سائٹ پر متحرک کر دیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کی روشنی میں کمیٹی نے متفقہ طور پر معاملہ نمٹا دیا اور این ایچ اے حکام کی اس یقین دہانی کو ریکارڈ کا حصہ بنایا کہ مذکورہ سیکشن پر کام یکم دسمبر 2026ء تک شروع کر دیا جائے گا۔کمیٹی نے زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے وسیع تر عوامی مفاد میں ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، جوابدہی اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔








