اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کا اجلاس پیر کو اولڈ پپس ہال پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر اسد قاسم نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر ندیم احمد بھٹو، سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سینیٹر ناصر محمود اور سینیٹر عطاء الحق نے شرکت کی۔اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور افغان مہاجرین کی واپسی سے …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کا اجلاس، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق اہم گورننس،انسانی،ماحولیاتی اور سکیورٹی امور کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کا اجلاس پیر کو اولڈ پپس ہال پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر اسد قاسم نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر ندیم احمد بھٹو، سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سینیٹر ناصر محمود اور سینیٹر عطاء الحق نے شرکت کی۔اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق اہم گورننس،انسانی،ماحولیاتی اور سکیورٹی امور کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کو سکردو میں 21 اور 22 اکتوبر 2025ء کو منعقد ہونے والے گزشتہ اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی گئی۔کمیٹی نے گلگت بلتستان میں سیلاب کے بعد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ارکان نے خطے میں ابتدائی وارننگ سسٹمز کی بگڑتی حالت پر سوالات اٹھائے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے 336 ملین روپے کا ایک منصوبہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ارسال کیا گیا تھاتاہم تاحال اس پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری گلگت بلتستان مشتاق احمد نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں سکرینز اور ڈیش بورڈز نصب کر دیئے گئے ہیں اور اب ریئل ٹائم ڈیٹا موصول ہو رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں اس وقت 115 ابتدائی وارننگ سسٹمز فعال ہیں۔اجلاس میں گلگت بلتستان میں جنگلات کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی جن میں دیہاتی سطح پر فارسٹ کنزرویشن کمیٹیوں کا قیام شامل ہے۔
حکام کے مطابق تقریباً 30 فارسٹ کنزرویشن کمیٹیاں محکمہ جنگلات کی معاونت سے فعال ہیں جبکہ 54 کمیٹیاں محکمہ کے اشتراک سے 30 ہزار ہیکٹرز سے زائد اراضی کے تحفظ میں مصروف ہیں۔اسسٹڈ نیچرل ری جنریشن کمیٹیاں محکمہ جنگلات کی نگرانی میں کام کر رہی ہیں جن کی سفارش پر محافظین کی بھرتی کی جا رہی ہے جس سے جنگلات کے تحفظ کو نمایاں تقویت ملی ہے۔بتایا گیا کہ یہ کمیٹیاں غیر قانونی لکڑی کی کٹائی کی روک تھام، چراگاہوں کے انتظام، جنگلات کی نگرانی اور خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔
کمیٹی نے ضبط شدہ لکڑی سے متعلق پالیسی فراہم کرنے کی ہدایت کی جبکہ سینیٹر ندیم بھٹو نے شجرکاری سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بھی غور کیا گیا بالخصوص عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے تناظر میں حالیہ بے چینی پرجسے ارکان نے قومی یکجہتی کے لیے چیلنج قرار دیا تاہم آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری کی مسلسل دوسری مرتبہ عدم شرکت کے باعث اس اہم ایجنڈے پر بحث نہ ہو سکی۔
کمیٹی نے یہ ایجنڈا موخر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری آئندہ اجلاس میں لازمی شرکت کو یقینی بنائیں۔افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے وزارت داخلہ اور چیف کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ وزارت داخلہ و انسداد منشیات نے 31 جولائی 2025ء کو ایک ایس آر او جاری کیا جس کے تحت پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کو غیر قانونی قرار دے کر فوری بے دخلی کی ہدایت کی گئی۔4 اگست 2025ء کو ہونے والےاجلاس کے بعد رضاکارانہ واپسی کے لیے یکم ستمبر 2025ء تک ایک ماہ کی مہلت دی گئی جس کے بعد بے دخلی کا عمل شروع ہوا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کو متعلقہ سٹیک ہولڈرز بشمول افغان کمشنریٹس کے ساتھ مشاورت سے بے دخلی کی قیادت سونپی گئی۔ چیف کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین نے صوبائی افغان کمشنریٹس، نادرا اور یو این ایچ سی آر کے تعاون سے رضاکارانہ واپسی مراکز کی استعداد میں اضافہ کیا۔ مزید بتایا گیا کہ نادرا کے 11 پروف آف کارڈ ترمیمی مراکز کو رضاکارانہ واپسی مراکز میں تبدیل کیا گیاجہاں پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کو نادرا کے اے این آر ڈیٹا بیس سے ڈی رجسٹر کر کے ان کے اہل خانہ سمیت سرحدی مقامات تک سفری سہولیات فراہم کی گئیں۔
کمیٹی کو فراہم کردہ 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 11 لاکھ 55 ہزار 221 افغان شہری واپس بھیجے گئےجن میں ایک لاکھ 63 ہزار 429 پروف آف رجسٹریشن کارڈ ہولڈرز، 74 ہزار 943 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز، 5 لاکھ 9 ہزار 671 غیر دستاویزی افراد اور 4 لاکھ 7 ہزار 178 رضاکارانہ واپس جانے والے شامل ہیں۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر میں اس وقت افغان مہاجرین کے 54 کیمپ موجود ہیں جن میں 43 خیبرپختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں واقع ہے۔
اراکین نے وضاحت طلب کی کہ کتنے افغان شہری پاکستان میں داخل ہوئے، اس وقت کتنے مقیم ہیں اور وہ کہاں رہائش پذیر ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ وزارتوں کو 2005ء سے 2025ء تک سالانہ اور ضلع وار تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کا اختتام قومی مفاد میں بہتر رابطہ کاری، جوابدہی اور کمیٹی کی سفارشات پر بروقت عملدرآمد کی ہدایات کے ساتھ ہوا۔







