سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس، آئینی ترامیم اور فیملی کورٹس ترمیمی بل پر اہم فیصلے

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں آئینی ترامیم اور فیملی کورٹس ترمیمی بل پر اہم فیصلےکئے گئے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں سینیٹر محمد عبدالقادر، شہادت اعوان، کامران مرتضیٰ اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی جبکہ …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں آئینی ترامیم اور فیملی کورٹس ترمیمی بل پر اہم فیصلےکئے گئے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں سینیٹر محمد عبدالقادر، شہادت اعوان، کامران مرتضیٰ اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی جبکہ سینیٹر سرمد علی نے ورچوئل طور پر اجلاس میں شریک ہوئے ۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بھی اجلاس میں موجود تھے۔

اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے 9 ستمبر 2024ء کو پیش کیے گئے آئینی (ترمیمی) بل 2024 (آرٹیکل 62 میں ترمیم) پر مزید غور کیا گیا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت صدر مملکت، وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور صوبائی وزراء کے لیے گریجویشن کو لازمی تعلیمی اہلیت قرار دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

بل کی محرک نے موقف اختیار کیا کہ اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز افراد پر بھاری آئینی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اس لیے اعلیٰ معیار اہلیت ضروری ہے۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ تمام صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس ترمیم کی مخالفت کی گئی ہے اور یہ تجویز آئین کے آرٹیکل 25 (شہریوں میں مساوات)سے متصادم ہو سکتی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیئے کہ تعلیمی شرط مساوات کے آئینی اصول کو متاثر کر سکتی ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ریاستیں محض ڈگریوں سے نہیں بلکہ دانائی، تجربے اور وژن سے چلتی ہیں، تعلیم اور اہلیت میں فرق ہونا چاہیے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف نے بل کے محرک کی نیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مقصد حکمرانی کے معیار کو بہتر بنانا ہے تاہم صوبوں کے تحفظات اور کمیٹی کی مجموعی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے رکن انچارج نے بل واپس لے لیا۔اجلاس میں سینیٹر ذیشان خانزادہ خان کی جانب سے 19 مئی 2025ء کو پیش کیے گئے آئین (ترمیمی) بل 2025 (آرٹیکل 228) اور آئین (ترمیمی) بل 2025 (آرٹیکل 153) پر بھی غور کیا گیا جن کا مقصد آئینی اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا تھا۔آرٹیکل 228 سے متعلق بل پر اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے جواب کا جائزہ لیا گیا جس میں واضح کیا گیا کہ آئین خواتین کی تقرری سے نہیں روکتا اور پہلے ہی کم از کم ایک خاتون رکن کی شمولیت یقینی ہے، اس لیے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں۔

اسی طرح آرٹیکل 153 کے تحت کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) میں خواتین کی تقرری کے حوالے سے وزارت نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو آئین کے تحت اہل خواتین کو رکن نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ کمیٹی نے دونوں بل غیر ضروری قرار دیتے ہوئے سفارش کی کہ انہیں ایوان سے منظور نہ کیا جائے۔

کمیٹی نے مزید فیملی کورٹس (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا جو سینیٹر سرمد علی نے 19 جنوری 2026ء کو پیش کیا تھا۔ شق وار جائزے کے دوران سیکشن 9 میں ترمیم واپس لے لی گئی جبکہ سیکشن 11 میں ترمیم منظور کر لی گئی۔ ترمیم کے مطابق فیملی کورٹس فریقین کی رضامندی اور عدالتی صوابدید کے تحت بیانات کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت دے سکیں گی۔

مزید خبریں