سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس،وفاقی آئینی عدالت میں بنیادی سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد۔11مارچ (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے وفاقی آئینی عدالت میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور عدالتی عمارتوں کی دیکھ بھال کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے عدالتی انفراسٹرکچر، وکلا کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور وفاقی آئینی عدالت کے آپریشنل فریم ورک کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی …

اسلام آباد۔11مارچ (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے وفاقی آئینی عدالت میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور عدالتی عمارتوں کی دیکھ بھال کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے عدالتی انفراسٹرکچر، وکلا کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور وفاقی آئینی عدالت کے آپریشنل فریم ورک کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔

کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)برائے مالی سال 2026-27 کے تحت پیش کردہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس کے آغاز پر کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب)کے چیئرمین مصروفیات کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔

ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے چیئرمین کی عدم دستیابی سے کمیٹی کو آگاہ کیا جبکہ وفاقی وزیر قانون و انصاف کی عدم شرکت کے باعث نیب سے متعلق ایجنڈا آئٹم مؤخر کر دیا گیا۔اجلاس کے دوران سیکرٹری وزارت قانون و انصاف نے کمیٹی کو پی ایس ڈی پی کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں بارے بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہائی کورٹ بار کے لیے ایک نیا بار کمپلیکس تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں وکلا برادری کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے نئے بار کمپلیکس میں فراہم کی جانے والی سہولیات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کا کیفے ٹیریا خاص طور پر اچھی طرح تیار کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے وفاقی آئینی عدالت میں بنیادی سہولیات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں تاحال کینٹین، بار روم اور مناسب واش رومز جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں جو عدالتی امور کی مؤثر انجام دہی کے لیے ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمارتوں کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ان کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف خوبصورت عمارتیں بنانے یا محدود انفراسٹرکچر مثلاً ایک لفٹ لگانے کے بجائے مکمل آپریشنل سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں دیکھ بھال کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ نئی عمارت میں نصب دو لفٹوں میں سے ایک اس وقت خراب ہے، اس پر سیکرٹری وزارت قانون و انصاف نے کمیٹی کو بتایا کہ عمارت مکمل ہونے کے بعد اس کا انتظامی کنٹرول متعلقہ عدالت کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ نے فیڈرل سروس ٹریبونل میں بالخصوص واش رومز کی خستہ حالی کی جانب بھی توجہ دلائی۔ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو فیڈرل سروس ٹریبونل کے رجسٹرار کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف کی جانب سے قوانین کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے اور ڈیجیٹلائز کرنے کے اقدامات کو بھی سراہا، خصوصاً پاکستان کوڈ اور ڈی آر آئی ایس ویب سائٹ کو جو مستند اور تازہ ترین قوانین اور ترامیم کے اہم ذخیرے کے طور پر کام کر رہی ہیں۔اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر محمد عبدالقادر نے بھی شرکت کی۔