سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری، بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ اور دیگر اہم نجکاری منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس، ڈسکوز کی نجکاری اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری، بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ اور دیگر اہم نجکاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
منگل کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس کے دوران سیکرٹری نجکاری ڈویژن نے تین بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کا عمل اگست 2024 میں شروع ہوا تھا اور تمام ڈسکوز سے متعلق جامع جائزہ رپورٹس مالیاتی مشیر کی جانب سے تیار کر لی گئی ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے منتخب ڈسکوز کے 51 سے 100 فیصد حصص فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنے اور اجارہ داری سے بچنے کے لیے ہر سرمایہ کار کو صرف ایک ڈسکو خریدنے کی اجازت ہوگی جبکہ فروخت کیے جانے والے حصص کی حتمی شرح ممکنہ سرمایہ کاروں سے مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔سیکرٹری نجکاری ڈویژن نے بتایا کہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 اگست مقرر کی گئی ہے جس کے بعد اہل سرمایہ کاروں کو ڈیو ڈیلیجنس کی اجازت دی جائے گی۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ سرمایہ کاری سے متعلق چین، ترکیہ اور سعودی عرب میں روڈ شوز منعقد کیے گئے جہاں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ نجکاری کمیشن کے مطابق سرمایہ کاروں نے پاکستان کے ریگولیٹری نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے، نیپرا کے کردار کو مزید مضبوط کرنے، مارکیٹ میں مسابقت بڑھانے اور شفاف و قابلِ اعتماد ریگولیٹری ماحول قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔نجکاری کمیشن نے بتایا کہ وہ پاور ڈویژن اور نیپرا کے تعاون سے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے جامع سفارشات تیار کر رہا ہے تاکہ بجلی کی فراہمی کے شعبے میں مزید مسابقت کو فروغ دیا جا سکے۔کمیٹی نے حیات ریجنسی ہوٹل کی عمارت سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ نجکاری ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ یہ جائیداد 2004 میں 53 کروڑ روپے میں نجکاری کے ذریعے فروخت کی گئی تھی جبکہ 2003 میں عمارت کو نیشنل کموڈٹی ایکسچینج میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ خریدار کی جانب سے مکمل ادائیگی کے باوجود پاکستان ریلوے سے این او سی نہ ملنے اور بعد ازاں قانونی کارروائیوں کے باعث گزشتہ دو دہائیوں سے لیز کی منتقلی کا معاملہ حل طلب ہے۔پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ تمام مالی ذمہ داریاں پوری کی جا چکی ہیں اور 2014 سے لیز کی ادائیگیاں باقاعدگی سے کی جا رہی ہیں تاہم لیز کی منتقلی کی درخواست تقریباً 20 سال سے زیر التوا ہے۔پاکستان ریلوے کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل لیز معاہدہ 2004 میں دس سال کے لیے کیا گیا تھا، جس کے بعد معاملہ عدالتی کارروائی کی نذر ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل خریدار پر لازم تھا کہ وہ لیز کی منتقلی کے لیے درخواست دیتا جبکہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت رہا تاہم پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج کے نمائندوں نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہیں بھی لیز معاہدہ ختم کرنے کی ہدایت نہیں دی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے معاملے میں غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مکمل ادائیگی کے باوجود مسئلہ حل نہ ہونا افسوسناک ہے۔ انہوں نے نجکاری کمیشن کو ہدایت دی کہ پاکستان ریلوے کو مطلوبہ این او سی کے اجرا کے لیے باضابطہ خط لکھا جائے جبکہ اس معاملے کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے مشترکہ اجلاس میں بھی اٹھایا جائے گا۔کمیٹی نے ملک کے بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے متعلق حکومتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔ سیکرٹری نجکاری ڈویژن نے واضح کیا کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے فروخت نہیں کیے جائیں گے بلکہ انہیں کنسیشن ماڈل کے تحت آؤٹ سورس کیا جائے گا تاکہ آپریشنل کارکردگی اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارتِ ہوا بازی کی جانب سے ماضی میں نجکاری کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں تاہم موجودہ آؤٹ سورسنگ کا عمل بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مالیاتی مشیر مقرر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے باضابطہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ آؤٹ سورسنگ کا عمل نو ماہ میں مکمل ہونے جبکہ ڈیو ڈیلیجنس کا مرحلہ آئندہ تین ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ کراچی اور لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ایک ہی مالیاتی مشیر مقرر کیا جائے گا جبکہ اس سلسلے میں ابتدائی تیاریاں جاری ہیں۔اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی تنظیمِ نو پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ پی آئی اے کی 33 جائیدادیں ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ 11 جائیدادیں، جن میں چار پاکستان اور سات بیرونِ ملک واقع ہیں، بدستور پی آئی اے کے پاس موجود ہیں۔ ان اثاثوں کی مجموعی مالیت تقریباً 14.2 ارب روپے بتائی گئی۔روزویلٹ ہوٹل کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالیاتی مشیروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور لین دین کے ڈھانچے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ نجکاری کمیشن کا ہدف موجودہ سال کے اختتام تک اس عمل کو مکمل کرنا ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کامیاب نجکاری پر نجکاری کمیشن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 100 ارب روپے کے خسارے سے بچایا گیا ہے۔کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے نجکاری پروگرام میں شفافیت، احتساب اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ عوامی مفاد کے تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔اجلاس میں سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر خلیل طاہر سندھو، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔








