سیکا کے سربراہی اجلاس سے اسرائیلی صدر کے خطاب کے دوران 10 ممالک کے مندوبین کا واک آئوٹ
سیکا کے سربراہی اجلاس سے اسرائیلی صدر کے خطاب کے دوران 10 ممالک کے مندوبین کا واک آئوٹ

مزید خبریں
باکو۔16اکتوبر (اے پی پی):آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایشائی ممالک کی تنظیم کانفرنس آن انٹرایکشن اینڈ کانفیڈنس بلڈنگ میئرز ان ایشیا(سیکا )کے سربراہی اجلاس سے اسرائیلی صدر کے خطاب کے دوران 10 ممالک کے مندوبین نے احتجاجاً واک آئوٹ کیا۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کے صدرآئزک ہرزوگ کا خطاب شروع ہوتے ہی اٹھایا گیا، جو غزہ کی پٹی پر جاری خونریز جنگ کے تناظر میں اسرائیلی عہدیدار کی شرکت کے خلاف شدید سیاسی ردعمل اور بیزاری کی عکاسی کرتا ہے ۔
Conference on Interaction and Confidence Building Measures in Asia (سیکا) کے سربراہی اجلاس سے اسرائیلی صدر کا خطاب شروع ہوتے ہی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ان کا وفد اپنی نشستوں سے اٹھے اور ہال چھوڑ کر چلے گئے، جبکہ اسی وقت دیگر متعدد ممالک کے نمائندوں نے بھی ہال کا بائیکاٹ کیا۔ سربراہی کانفرنس کی میزبانی آذربائیجان اپنی باری کے صدارت کے طور پر کر رہا ہے۔سیکا کانفرنس 28 ممالک پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد ایشیائی ریاستوں کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا ہے، جبکہ اس کے رکن ممالک براعظم ایشیا کے 90 فیصد رقبے اور دنیا کی نصف سے زائد آبادی کا احاطہ کرتے ہیں۔
ترکیہ اس کانفرنس کے بانی ممالک میں شمار ہوتا ہے، نیز اس نے2010 میں استنبول میں اس کے تیسرے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی اور 2010 سے 2014 کے درمیانی عرصے میں اس کی باری کی صدارت بھی سنبھالی تھی۔بین الاقوامی وفود کا یہ بائیکاٹ غزہ میں جاری نسل کشی کی جنگ کے پس منظر میں قابض اسرائیل پر بڑھتی ہوئی عالمی تنقید کے عین مطابق سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہری شہید و زخمی ہوئے ہیں اور مکانات، ہسپتالوں، سکولوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کن نقصان پہنچا ہے، جبکہ انسانی امداد اور طبی فراہمی کے داخلے پر کڑی پابندیاں عائد ہیں۔
فلسطینی سرزمین پر بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کے الزامات کے تحت عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے قانونی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عالمی فورمز پر قابض اسرائیل پر سیاسی اور قانونی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں عوام جنگ بندی اور فلسطینیوں کے خلاف مظالم کے ذمہ داروں کے محاسبے کا مطالبہ کرتے ہوئے سراپا احتجاج ہیں۔







