سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ کا پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ، سیز فائر میں توسیع ،آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کا خیرمقدم
سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ کا پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ، سیز فائر میں توسیع ،آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کا خیرمقدم

مزید خبریں
واشنگٹن۔15جون (اے پی پی):پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس سے مزید مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئی ہے جو کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے، جس میں ہزاروں افراد شہید ہوئے اور عالمی معیشت متاثر ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے طویل اور مشکل مذاکرات کے کئی مہینوں کے بعد امریکا کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے دی ہے۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نےاسلام آباد میں معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے پر دستخطوں کی باضابطہ تقریب 19 جون کوسوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع کے پُرامن حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کے تعمیری کردار کو سراہاجنہوں نے امن معاہدے تک پہنچنے والے مذاکرات کی حمایت کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین تنازع کے حتمی حل کے لیے اپنی کوششوں میں مزید تیزی لائیں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اقوامِ متحدہ دیرپا اور جامع امن کے قیام میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی جو عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کے بحری جہازوں کے ذریعے تیل کی ترسیل شروع ہو جانی چاہیے ۔ معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ ان نکات سے مطابقت رکھتی تھی جن کے بارے میں امریکی اور ایرانی حکام پہلے اشارہ دے چکے تھے کہ وہ ابتدائی معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق اس معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی شامل ہوگی، جس کا مقصد فریقین کے درمیان لڑائی روکنا اور مزید مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے بیان میں کہا کہ معاہدے میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان تنازع جاری ہے۔ آخری لمحات میں ہونے والے تیز رفتار مذاکرات، جن میں قطر نے مرکزی کردار ادا کیا، کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئے اور حتمی معاہدہ بظاہر تہران میں رات گئے طے پایا۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے حکام پہلے ہی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ دونوں ممالک 60 روزہ جنگ بندی کے دوران تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ تاہم لبنان کا مسئلہ ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ لبنان سے متعلق کسی بھی معاہدے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا امریکا اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیاں محدود یا ختم کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے اور آیا ایران حزب اللہ کو تحمل کا مظاہرہ کرنے پر راضی کر سکتا ہے یا نہیں۔








