اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا ہے کہ سی پیک تبدیلی کا منصوبہ ہے، ہماری ملکی ترقی کے لئے اس منصوبے پر مکمل قومی اتفاق رائے ہے۔ پاکستان اور چین سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے پُر عزم ہیں ،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ بات سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے پیر کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی ، جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے …
سی پیک تبدیلی کا منصوبہ ہے، ہماری ملکی ترقی کے لئے اس منصوبے پر مکمل قومی اتفاق رائے ہے، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کی چیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا ہے کہ سی پیک تبدیلی کا منصوبہ ہے، ہماری ملکی ترقی کے لئے اس منصوبے پر مکمل قومی اتفاق رائے ہے۔ پاکستان اور چین سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے پُر عزم ہیں ،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ بات سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے پیر کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی ، جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے ملاقات میں کہی۔سی پیک منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ سی پیک کے توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں نے ہزاروں ملازمتیں پیدا کیں اور صنعتی ترقی اور پیداوار کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی پیک کا پاکستان کے معاشی منظرنامے کو مستحکم بنانے میں حقیقی اور نمایاں کردار ہے۔سیکرٹری خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں پاکستان صنعتی اور اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے ،یہ ایسے شعبے ہیں جہاں عام لوگوں کے لئے روزگار اور ترقی کے وسیع مواقع پیدا ہونگے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے نو میں سے تین رشکئی ، دھابیجی اور علامہ اقبال خصوصی اقتصادی زونزکو ترجیح دی گئی ہے اور پاکستان ان منصوبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرے گا۔سیکرٹری خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت بالخصوص پاکستان اور چین کے مابین زرعی تعاون کو مستحکم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں ، دونوں ممالک کے مابین تعاون سے متعلق ایکشن آف پلان کے حوالے سے بات چیت مکمل ہوچکی ہے۔ سیکرٹری خارجہ نے امید ظاہر کی کہ پلان آف ایکشن پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک اتھارٹی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 10 ویں جے سی سی اجلاس جلد منعقد ہوگا ، جس سے مزید معاشی مواقع پیدا ہونگے اور سی پیک منصوبوں کو مزید وسعت دینے میں معاون ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان چین سے صنعتوں کی ری لوکیشن کا خیرمقدم کرے گا۔اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ کواویڈ 19 کے بعد ، چین اور پاکستان کی اجتماعی کاوشوں کے ذریعے ، سی پیک علاقائی تجارت اور رابطے کا مرکز بن جائے گا ۔








