اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور نے کہا ہے کہ سی پیک فیز ون میں زیادہ توجہ توانائی پر مرکوز رہی،چائنہ نے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کی ہے،سی پیک فیز 2 میں ہماری توجہ صنعت کاری پر مرکوز ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان-چائنیز انٹرپرائزز ایسوسی ایشن کی سالانہ رپورٹ کے اجراء کی …
سی پیک فیز ون میں زیادہ توجہ توانائی پر مرکوز رہی،چائنہ نے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کی ہے،سی پیک فیز 2 میں ہماری توجہ صنعت کاری پر مرکوز ہے،خالد منصور

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور نے کہا ہے کہ سی پیک فیز ون میں زیادہ توجہ توانائی پر مرکوز رہی،چائنہ نے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کی ہے،سی پیک فیز 2 میں ہماری توجہ صنعت کاری پر مرکوز ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان-چائنیز انٹرپرائزز ایسوسی ایشن کی سالانہ رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خالد منصور نے کہا کہ سی پیک فیز ون میں زیادہ توجہ توانائی پر مرکوز رہی۔ فیز 1 میں توانائی کے بحران پر قابو پایا گیا۔ چائنہ نے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت 5300 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی جبکہ 5000 میگاواٹ سے زائد کی بجلی پیدا کرنے پر عمل درآمد جاری ہے۔ بلوچستان میں صحت، تعلیم، واٹر سپلائی کے منصوبوں پر ملین ڈالرز خرچ کئے گئے ہیں۔ سی پیک فیز 2 میں ہماری توجہ صنعت کاری پر مرکوز ہے۔
سی پیک کی تکمیل سے پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔ بی آر آئی ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جس سے علاقائی روابط قائم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے چین کے سرمایہ کاروں کے منصوبوں کی منظوری اور این او سی جاری کرنے کے طریقہ کار میں کافی حد تک نرمی کی ہے۔ سی پیک سے متعلق تمام مسائل کا وزیراعظم کو علم ہے اور وہ ان سب چیلنجز پر قابو پانے کیلئے پر امید ہیں۔








