سی پیک کے تحت سماجی و معاشی ترقی کا آغاز کردیا گیا، مخدوم خسرو بختیار

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کو سماجی و معاشی ترقی اور زراعت کے شعبوں میں وسعت دے رہی ہے تاکہ ان شعبوں میں موجود ترقی کے مواقعوں سے استفادہ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی و معاشی شعبے میں تعاون کیلئے قائم چینی …

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کو سماجی و معاشی ترقی اور زراعت کے شعبوں میں وسعت دے رہی ہے تاکہ ان شعبوں میں موجود ترقی کے مواقعوں سے استفادہ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی و معاشی شعبے میں تعاون کیلئے قائم چینی ماہرین کے وفد سربراہ پروفیسر دو زین لی سے ملاقات کے دوران کیا، ملاقات میں سیکرٹری پلاننگ ظفر حسن، چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن چاو لی جیان اور پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک حسان داود شریک رہے۔ 13رکنی چینی ماہرین پاکستان کا دورہ کررہے ہیں جہاں و وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلی حکام سے ملاقات کررہے ہیں، دونوں جانب کے ماہرین سماجی و معاشی ترقی کے شعبے میں نئے پراجیکٹس اور انہیں فعال بنانے کے حوالے سے میکانزم وضع کریں گے۔ وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان اور چین دونوں ممالک کیلئے برابر کے مواقع فراہم کررہا ہے، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے حکام پرعزم ہے کہ اس تعاون کے تحت ان تمام منصوبوں کو جلد از جلد فعال بنانے کی کوشش کی جائے گی جو اس وقت منصوبہ بندی و تعمیر کے مختلف مراحل میں پیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مختصر تا درمیانے مرحلے کے دوران سی پیک کو زراعت اور سماجی و معاشی شعبوں کی جانب وسعت دی جارہی ہے، ان شعبوں میں نشونما کے وسیع مواقع موجود ہے جس سے بھر پور استفادہ کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ملک کے کم ترقیافتہ علاقوں میں چینی تعاون سےمنصوبے شروع کئے جارہے ہیں، مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ 8 وین جائنٹ کو آپریشن کمیٹی کے اجلاس کے دوران دونوں جانب کے ماہرین نے ایک ایکشن پلان وضع کیا تھا جس پر عمل درآمد کا آغاز ہورہا ہے، اس تعاون کے تحت تعلیم، صحت، زراعت، فنی تعلیم، غربت کے خاتمے اور آبنوشی کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ جس کی فہرست چینی ماہرین کو فراہم کی جائے گی۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں کم مالیت کےایسے منصوبے شروع کئے جائیں گے جن کی تکمیل جلد از جلد ممکن بنائی جاسکے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ پہنچایا جسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنی تعلیم، صحت، ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے و غربت کے خاتمے کیلئے شروع کئے جانے والے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے ماہرین تجاویز کو حتمی شکل د ینے میں کامیاب ہوں گے اور ساتھ ہی اپریل کے مہینے میں متوقع اعلی سطحی دورے کیلئے ایجنڈہ بھی تیار کرسکیں گے تاکہ پاک چین معاشی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے۔ پاکستان اور چین نے مل کر سی پیک کو وسعت دینے پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت اسے ایک ایسی راہداری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے کئی دروازے ہوں گے۔ اس وڑن کے تحت سی پیک میں کاروبار و چینی مارکیٹس تک رسائی، صنعتی ترقی، سماجی و معاشی ترقی اور غربت کا خاتمہ، زراعت، گوادر اور علاقائی روابط و تیسری فریق کی شمولیت جیسے شعبہ جات کا اضافہ کیا گیا۔

Leave a Reply