اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):حکومتِ پاکستان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے سی پیک 2.0 کو قومی معاشی ترقی، گرین انرجی اور صنعتی فروغ کے لیے ایک فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا ہے۔ سی پیک 2.0 کا مقصد پہلے مرحلے کے تجربات سے سیکھتے ہوئے صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، برآمدات میں اضافہ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔حکام کے مطابق حکومتی ترجیحات کے …
سی پیک 2.0،گرین ڈیویلپمنٹ، صنعتی تعاون اور برآمدات پر مبنی نئے دور کا آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):حکومتِ پاکستان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے سی پیک 2.0 کو قومی معاشی ترقی، گرین انرجی اور صنعتی فروغ کے لیے ایک فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا ہے۔ سی پیک 2.0 کا مقصد پہلے مرحلے کے تجربات سے سیکھتے ہوئے صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، برآمدات میں اضافہ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔حکام کے مطابق حکومتی ترجیحات کے مطابق سی پیک 2.0 محض انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے صنعت کاری، روزگار کے مواقع اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کو فروغ دے گا۔
اس مرحلے میں توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع، خصوصاً شمسی، ہوائی اور آبی توانائی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو اور توانائی کا ایک مستحکم و ماحول دوست نظام تشکیل دیا جا سکے۔سی پیک 2.0 کے تحت گرین ڈویلپمنٹ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس ضمن میں ماحول دوست صنعتیں، توانائی مؤثر فیکٹریاں اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ اس حکمتِ عملی سے نہ صرف پاکستان کے کاربن فٹ پرنٹ میں کمی آئے گی بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔لاجسٹکس اور علاقائی رابطہ کاری کے فروغ کے لیے گوادر پورٹ کو ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے، جس سے پاکستان چین، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارتی پل کا کردار ادا کر سکے گا۔
اس سے علاقائی تجارت، ٹرانزٹ اور برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سی پیک 2.0 کے تمام منصوبے شفافیت، بہتر حکمرانی اور مؤثر سیکیورٹی انتظامات کے تحت مکمل کیے جائیں گے، بالخصوص بلوچستان سمیت تمام متعلقہ علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔سی پیک 2.0 پاکستان کو ایک درآمدی معیشت سے نکال کر صنعتی، برآمدات پر مبنی اور گرین اکانومی کی طرف لے جانے کا جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ حکومت پُرعزم ہے کہ اس منصوبے کے ثمرات ملک کے تمام صوبوں اور عوام تک یکساں طور پر پہنچیں گے، جس سے پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کی نئی راہیں کھلیں گی۔








