اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے شادی شدہ مرد اور خواتین سرکاری ملازمین کو خاندانی زندگی میں مشکلات پیدا کرنے والے تبادلوں سے بچانے کو ریاستی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے سرکاری محکموں کو ویڈ لاک پالیسی پر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے ،عدالت نے قرار دیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شادی شدہ سرکاری ملازمین اور خواتین سرکاری ملازمین کو ایسے تبادلوں سے …
شادی شدہ مرد اور خواتین سرکاری ملازمین کو خاندانی زندگی میں مشکلات پیدا کرنے والے تبادلوں سے بچانا ریاستی ذمہ داری ہے ،سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے شادی شدہ مرد اور خواتین سرکاری ملازمین کو خاندانی زندگی میں مشکلات پیدا کرنے والے تبادلوں سے بچانے کو ریاستی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے سرکاری محکموں کو ویڈ لاک پالیسی پر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے ،عدالت نے قرار دیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شادی شدہ سرکاری ملازمین اور خواتین سرکاری ملازمین کو ایسے تبادلوں سے بچایا جائے جو خاندانی زندگی میں مشکلات پیدا کریں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ہیلتھ انسپکٹر مبشر اقبال ظفر کا تبادلہ ڈیرہ نواب صاحب کرنے کا حکم ویڈ لاک پالیسی کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ۔
جسٹس عائشہ اے ملک نے تفصیلی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ 1998 سے نافذ ویڈ لاک پالیسی کا مقصد شادی شدہ ملازمین کو ایک ہی اسٹیشن پر رکھنے میں سہولت دینا ہے اور محکمہ جات اس پالیسی کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پالیسی کوئی مطلق حق نہیں، لیکن ایک جائز توقع ضرور پیدا کرتی ہے کہ میاں بیوی کو ایک ہی جگہ تعیناتی کی سہولت فراہم کی جائے، خاص طور پر جب طبی وجوہات سامنے ہوں۔درخواست گزار مبشر اقبال ظفر نے بتایا تھا کہ وہ خود بھی شوگر کے مریض ہیں جبکہ ان کی اہلیہ (گریڈ 14) دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور عبدالحکیم ہی میں تعینات ہیں، دو کمسن بچوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے بھی عبدالحکیم میں رہنا ضروری ہے۔
اہلیہ کے مرض کی تصدیق میڈیکل بورڈ نے بھی کی تھی۔ اس کے باوجود تبادلہ آرڈر جاری کیا گیا جسے اس نے فیڈرل سروس ٹربیونل اور متعلقہ حکام کے سامنے چیلنج کیا مگر درخواستیں مسترد ہوئیں۔سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ حکومت کے پاس درخواست گزار کے تبادلے کی کوئی "قابلِ ذکر” وجہ نہ تھی اور معاملہ محض روایتی اور روٹین کی کارروائی میں نمٹایا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ویڈ لاک پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اسے افسران کی صوابدید پر چھوڑا جا سکتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک نے فیصلے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 34 اور 35 ریاست کو شادی، خاندان، خواتین کی شرکت اور فلاح کا تحفظ کرنے کا پابند بناتے ہیں اس لیے حکومت کو اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرنا ہوگا۔







