شام میں موجودہ انتشار قرارداد 2254 پر عمل درآمد میں ناکامی کا نتیجہ ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔2دسمبر (اے پی پی):شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نےخبردار کیا ہے کہ موجودہ لڑائی کے علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔العربیہ اردوکے مطابق ایک بیان میں انہوں نےکہا کہ آج ہم شام میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ دراصل سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر عمل درآمد میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے …

اقوام متحدہ ۔2دسمبر (اے پی پی):شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نےخبردار کیا ہے کہ موجودہ لڑائی کے علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔العربیہ اردوکے مطابق ایک بیان میں انہوں نےکہا کہ آج ہم شام میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ دراصل سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر عمل درآمد میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ انتباہات ہیۃ التحریر الشام (جسے پہلے النصرہ فرنٹ کہا جاتا تھا )اور مسلح دھڑوں کے حلب شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ قرارداد 2254 میں شام میں سالوں سے جاری جنگ کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعے سیاسی عمل شروع کرنے اور 6 ماہ کے اندر قابل اعتبار اتھارٹی اور حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس میں تمام فریقین کی نمائندگی پر زور دیا گیا ہے۔