شام کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کی اردن میں اہم ملاقاتیں، سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش

اومان۔17فروری (اے پی پی):شام کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے سربراہ نے اردن کے دارالحکومت اومان میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں جن کا مقصد شام میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ شامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ شام کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے سربراہ طلال الہلالی نے اومان میں شامی اور …

اومان۔17فروری (اے پی پی):شام کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے سربراہ نے اردن کے دارالحکومت اومان میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں جن کا مقصد شام میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ شامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ شام کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے سربراہ طلال الہلالی نے اومان میں شامی اور اردنی سرمایہ کاروں سے ملاقات کی جس میں شامی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مراعات اور ضابطہ جاتی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ترجیحی شعبہ جات پر روشنی ڈالی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت میں نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی اور شامی معیشت کے اہم شعبوں میں موجود مواقع کو اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔دورے کے دوران طلال الہلالی نے اومان کے میئر یوسف الشواربہ سے بھی ملاقات کی جس میں بلدیہ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں کردار اور سازگار سرمایہ کاری ماحول کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات میں مربوط ترقیاتی اقدامات کے ذریعے اقتصادی نمو کے فروغ اور عوامی خدمات میں بہتری کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔

علاوہ ازیں ، طلال الہلالی نے اردن کے وزیر تعلیم عزمی محفزہ سے ملاقات کر کے تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کے تعاون کو بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا، بالخصوص ان شعبوں میں جو دونوں ممالک کے لیے باہمی دلچسپی کا باعث ہیں۔شامی وفد نے عبدلی ریئل اسٹیٹ ڈولپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو عامر احمد الطراونہ سے بھی ملاقات کی اور بڑے پیمانے پر شہری ترقیاتی منصوبوں میں اردن کے تجربات پر تبادلہ خیال کیا۔

وفد نے عمان کے متعدد شاپنگ مالز کا دورہ بھی کیا تاکہ مقامی سرمایہ کاری ماحول، منصوبہ جاتی نظم و نسق اور آپریشنل ماڈلز کا جائزہ لیا جا سکے ۔ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب شامی حکام کئی برسوں کی جنگ کے بعد اقتصادی بحالی اور اہم شعبوں کی تعمیر نو کے لیے غیر ملکی اور علاقائی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔