شام کی عدالت نے منگل کو سابق حکمران بشار الاسد کو ملک میں خانہ جنگی کے دوران "جنگی جرائم” اور "انسانیت کے خلاف جرائم” کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کی عدم موجودگی میں ان کو موت کی سزا سنائی ہے۔بشار الاسد دسمبر 2024 میں دمشق میں باغیوں کی پیش قدمی کے بعد اپنے خاندان کےہمراہ روس فرار ہو گئے تھے ۔
شام کے معزول صدر بشار الاسد کو موت کی سزا سنادی گئی

مزید خبریں
دمشق ۔11اگست (اے پی پی):شام کی عدالت نے منگل کو سابق حکمران بشار الاسد کو ملک میں خانہ جنگی کے دوران "جنگی جرائم” اور "انسانیت کے خلاف جرائم” کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کی عدم موجودگی میں ان کو موت کی سزا سنائی ہے۔بشار الاسد دسمبر 2024 میں دمشق میں باغیوں کی پیش قدمی کے بعد اپنے خاندان کےہمراہ روس فرار ہو گئے تھے ۔
شام کی عبوری حکومت کے دوران میں ان کے خلاف یہ پہلا فیصلہ ہے ۔ شام کی عبوری حکومت بشارالاسد کی حکومت کے اہم عہدیداروں کے خلاف بھی مقدمات کی سماعت کر رہی ہے۔ بشارالاسد 1965 میں پیدا ہوئے ۔ وہ اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد 2000 میں شام کے صدر بنے تھے۔ان کے دور حکومت میں شام کو خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا ۔
شامی عدالت نےبشارالاسد کے دور کےعہدیدار عاطف نجیب کو بھی "انسانیت کے خلاف جرائم” کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔ وہ 2011 میں صوبہ درعا میں سیاسی سیکورٹی کے سربراہ تھے۔ان پر قتل اور سخت تشدد سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔








