غزہ۔18دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے اداروں نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والی شدید بارشوں سے غزہ کی پٹی میں بے گھر لاکھوں فلسطینیوں کی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے ۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یونیسیف کے ترجمان جوناتھن کریکس نے کہا کہ غزہ میں بارش کی وجہ سے رات بھر موسم خوفناک رہا اور بارش اتنی شدید تھی کہ …
شدید بارشوں سے غزہ میں لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے ، اقوام متحدہ

مزید خبریں
غزہ۔18دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے اداروں نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والی شدید بارشوں سے غزہ کی پٹی میں بے گھر لاکھوں فلسطینیوں کی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے ۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یونیسیف کے ترجمان جوناتھن کریکس نے کہا کہ غزہ میں بارش کی وجہ سے رات بھر موسم خوفناک رہا اور بارش اتنی شدید تھی کہ ان کے اپنے دفتر کے قریب زمین پر 15 سینٹی میٹر یعنی تقریبا 6 انچ تک پانی کھڑا ہو گیا۔انہوں نے کہاکہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ گیلے کپڑوں میں خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے والے بچے ہائپوتھرمیا اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
غزہ میں وزارت صحت کے حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں غزہ میں ایک شیر خوار بچہ ہائپوتھرمیا سے اور کم از کم 11 دیگر افراد شدید موسم کے سبب گرنے والی ایک عمارت کی وجہ سے جاں بحق ہو ئے۔ غزہ میں حکام کے مطابق آندھی اور بارش کی وجہ سے 17 رہائشی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں اور مزید 90 عمارتیں جزوی طور پر منہدم ہوئی ہیں۔اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے نو ہفتے قبل غزہ میں جنگبندی شروع ہونے کے بعد سے خیموں، کمبلوں اور کپڑوں کی ترسیل میں تیزی لائی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک جس پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے، وہ نہیں پہنچ رہی ہے۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کا اندازہ ہے کہ اب تک تقریباً 55,000 خاندان بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں اور اس کے سبب ان کے سامان اور پناہ گاہوں کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔40 سے زیادہ وہ ہنگامی پناہ گاہیں، جہاں نقل مکانی کے سبب بہت سے لوگ منتقل ہونے پر مجبور ہوئے تھے، پیر اور منگل کو ہونے والی بارشوں کے بعد شدید سیلاب کی زد میں آگئیں۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ پھر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
یونیسیف کے ترجمان جوناتھن کریکس کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے خیموں سے بالٹیوں سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ بہت سے بچوں کے کپڑے گیلے تھے، جبکہ والدین اپنے پاس موجود کمبلوں کو خشک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول پچھلے چار یا پانچ دنوں سے مسلسل بارشیں ہو رہی ہیں، اس لیے بچوں کے کپڑو ں کو خشک رکھنا بہت مشکل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بارش کے ساتھ آنے والی تیز ہواؤں سے بہت سے خیموں کے اڑ جانے یا تباہ ہونے کا خطرہ بھی ہے، کیونکہ وہ صرف ترپال کے ٹکڑے یا پلاسٹک کی چادر سے بنے تھے جو لکڑی کے نازک ڈھانچے پر کیلوں سے جڑے ہوتے ہیں۔انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات کی وجہ سے تباہ شدہ عمارتوں کا گرنا بے حد تشویشناک ہے۔ آئی سی آر سی نے اہم بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے لیے خوراک، پناہ گاہ اور آلات سمیت فوری اور طویل مدتی ضروریات کے لیے انسانی امداد میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔








