شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ انتقال کر گئے

لاہور۔24 جون (اے پی پی )شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی کے سابق ڈین پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد گزشتہ روزصبح انتقال کر گئے۔ان کی نماز جنازہ پنجاب یونیورسٹی جاگنگ ٹریک میں ادا کی گئی اور پنجاب یونیورسٹی کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔ نماز جنازہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمد نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں پاکستان کی معروف تعلیمی شخصیات بشمول پروفیسر ڈاکٹر …

لاہور۔24 جون (اے پی پی )شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی کے سابق ڈین پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد گزشتہ روزصبح انتقال کر گئے۔ان کی نماز جنازہ پنجاب یونیورسٹی جاگنگ ٹریک میں ادا کی گئی اور پنجاب یونیورسٹی کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔ نماز جنازہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمد نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں پاکستان کی معروف تعلیمی شخصیات بشمول پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری،سلمان غنی،نجم ولی خان، فرید پراچہ،عطاءالرحمان، سلمان عابد،پنجاب یونیورسٹی آسا کے صدرپروفیسر ڈاکٹر ممتاز انور چوہدری، عدنان رشید، راو¿ف طاہر، صحافیوں اور مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر مغیث کے انتقال پر وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد،پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر، ڈین فیکلٹی آف بیہوریل اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عنبرین جاوید، ڈائریکٹر آئی سی ایس پروفیسر ڈاکٹر نوشینہ سلیم اور فیکلٹی ممبران نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک کونسل کے اجلاس میں ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔پنجاب یونیورسٹی کے ڈینز، صدور شعبہ جات کی جانب سے پروفیسر مغیث کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اپنے بیان میں ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ شعبہ صحافت ایک عظیم استاد سے محروم ہو گیا ہے اور ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا ئ پر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ہزاروں صحافی پیدا کئے اور شعبہ صحافت میں ان کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے پنجاب یونیورسٹی میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ اپنے بیان میں ادارہ علوم ابلاغیات کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نوشینہ سلیم نے کہا ہے کہ ڈاکٹر مغیث نے شعبہ ماس کمیونیکشن کو انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز میں اپ گریڈ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نصاب کی ترتیب دی اور نئے کورسز متعارف کرائے ہیں۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ یکم جنوری 1951 کو لاہور میں پیدا ہوئے وہ2003 سے 2009 تک ادارہ علوم ابلاغیات کے ڈائریکٹر تعینات رہے۔ڈاکٹر مغیث 2005 سے 2011 تک پنجاب یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف بیہوریل اینڈ سوشل سائنسز رہے۔ڈاکٹر مغیث 2002 سے 2005 تک چئیرمین ہال کونسل پنجاب یونیورسٹی تعینات رہے۔وہ 2006 سے 2007 تک سٹوڈنٹ ایڈوائزری کمیٹی کے چئیرمین رہے۔انہوں نے امریکہ کی یونیورسٹی آف آئیوا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے 1976 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت، 1977 میں ایم اے سیاسیات کیا۔ انہوں نے آسٹریا میں دو مرتبہ میڈیا ایمڈ گلوبلائزیشن میں پوسٹ ڈاک فیلوشپ کی۔ انہوں نے 1976 میں گومل یونیورسٹی سے بطور لیکچرر اپنے کرئیر کا آغاز کیا۔ 1982 کوانہوں نے پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر جوائن کیا۔ 1998 میں ترقی پا کر ڈاکٹر مغیث پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر تعینات ہو گئے۔ وہ 40 سال سے زائد صحافت کے استاد رہے۔ وہ ناروے کی اوسلو یونیورسٹی کالج میں بھی پڑھاتے رہے۔انہیں جرنلزم فورتھ اسٹیٹ ایوارڈ آف آئیوا سٹیٹ، امریکہ سے نوازا گیا۔ 2006 میں زلزلہ زدگان کے لئے ایف ایم ریڈیو کے قیام پر اقوام متحدہ نے بھی ایوارڈ سے نوازا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 2003 میں ڈاکٹر مغیث کو بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ سے نوازا۔ انٹرنیشنل پبلک ریلیشنز ایسوسی ایشن نے 2004 میں انہیں کراون ایوارڈ سے نوازا۔ ڈاکٹر مغیث کو ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کی جانب سے پولیو ایمبیسڈر نامزد کیا گیا۔انہوں نے پریس کونسل آف پاکستان میں ایچ ای سی کی نمائندگی کی۔و ہ امریکن بائیوگرافیکل انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ بورڈ کے ممبر بھی رہے۔ وہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار ماس کمیونیکیشن ریسرچ کینیڈا، کامن ویلتھ ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کینیڈا، ایشین میڈیا انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن سنٹر سنگا پور، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹر، مختلف یونیورسٹیوں کے سلیکشن بورڈ اور بورڈ آف سٹڈیز کے بھی ممبر رہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے2011 میں ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر مغیث مختلف نجی یونیورسٹیوں میں بطور ڈین اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ڈاکٹر مغیث نے مختلف تحقیقی مقالہ جات کے ایڈیٹر اور ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر رہے۔انہوں نے اپنی تحقیقات دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے مختلف ملکوں کا دورہ بھی کیا۔وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے اور کئی کتابوں کے ابواب بھی تحریر کئے۔

مزید خبریں