پاکستان کے شعبہ صحت میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر شفاء انٹرنیشنل ہاسپٹلز لمیٹڈ نے باقاعدہ طور پر جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل (جے سی آئی) کی جانب سے ’’اکیڈمک میڈیکل سینٹر‘‘ کی ایکریڈیٹیشن حاصل کر لی ہے جس کے بعد یہ دنیا بھر میں یہ منفرد اعزاز رکھنے والے 70 سے بھی کم اداروں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
شفاء انٹرنیشنل ہاسپٹلز لمیٹڈ نے جے سی آئی کی ’’اکیڈمک میڈیکل سینٹر‘‘ کی ایکریڈیٹیشن حاصل کر لی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):پاکستان کے شعبہ صحت میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر شفاء انٹرنیشنل ہاسپٹلز لمیٹڈ نے باقاعدہ طور پر جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل (جے سی آئی) کی جانب سے ’’اکیڈمک میڈیکل سینٹر‘‘ کی ایکریڈیٹیشن حاصل کر لی ہے جس کے بعد یہ دنیا بھر میں یہ منفرد اعزاز رکھنے والے 70 سے بھی کم اداروں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کی طرف سے بدھ کو جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ محض ایک ادارے کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسا قومی سنگ میل ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر طبی مہارت اور ہیلتھ کیئر کے نقشے پر نمایاں کر دیا ہے۔ جے سی آئی اکیڈمک میڈیکل سینٹر کی یہ ایکریڈیٹیشن بین الاقوامی طب میں سب سے مشکل اور معتبر ترین اعزازات میں شمار ہوتی ہے جو صرف انہی اداروں کو دی جاتی ہے جو اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیار اور حفاظتی اصولوں کے تحت بیک وقت عالمی معیار کا طبی علاج، معیاری طبی تعلیم اور جدید ترین انسانی تحقیقی منصوبوں کو یکجا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
شفاء انٹرنیشنل کے حالیہ تشخیصی جائزے کے دوران تمام جانچے گئے معیارات پر مکمل تعمیل (فل کمپلائنس) دیکھی گئی اور ہسپتال کا ’سیفر (SAFER) رسک میٹرکس‘ مکمل طور پر کلیئر رہا۔ شفاء انٹرنیشنل ہاسپٹل اور آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل دونوں کے پاس بیک وقت جے سی آئی اکیڈمک میڈیکل سینٹر کا درجہ ہونے کی بدولت پاکستان دنیا کے ان انتہائی چند ترقی پذیر ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن کے ایک سے زائد ادارے اس عالمی سطح پر کام کر رہے ہیں جو ملک کے طبی اور تحقیقی قد کا واضح ثبوت ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق ایک اکیڈمک میڈیکل سینٹر ہونے کے ناطے یہ ادارہ روایتی ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں سے آگے بڑھ کر علاج، تعلیم اور دریافت کے تینوں ستونوں کو عالمی معیار کے مطابق بیک وقت چلا رہا ہے۔ اس پیشرفت کے باعث اب پاکستانی مریضوں کو دنیا کے مایہ ناز ترین اداروں کی طرح کا علاج ملک میں ہی میسر ہوگا جبکہ ڈاکٹروں اور نرسوں کی اگلی نسل کو بین الاقوامی تعلیمی ماحول میں تربیت دی جائے گی۔یہ کامیابی شفاء کی کلینیکل ٹیموں، طبی اساتذہ، محققین اور ادارہ جاتی قیادت کی برسوں کی سوچی سمجھی اور منظم محنت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس اہم سنگ میل نے ہسپتال کے اس طویل مدتی وژن کی توثیق کر دی ہے کہ پاکستان ایک ایسے اعلیٰ ادارے کو چلانے اور برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جہاں علاج، تعلیم اور تحقیق محض خواہشات نہیں بلکہ روزمرہ کے آپریٹنگ معیارات کا حصہ ہیں۔ پاکستان کے ہیلتھ کیئر سیکٹر کے لیے یہ کامیابی انتہائی گہرے اثرات کی حامل ہے کیونکہ یہ دنیا کو واضح پیغام دیتی ہے کہ یہ ملک اب عالمی طبی علم کا صرف حاصل کنندہ نہیں بلکہ اس میں سرگرمی سے حصہ ڈالنے والا فعال ملک بن چکا ہے۔
اس تاریخی کامیابی سے اب بین الاقوامی تحقیقی تعاون، تعلیمی شراکت داری اور طبی ایجادات کے تبادلے کے نئے راستے کھلیں گے جبکہ خطے بھر کے دیگر ہیلتھ کیئر اداروں کے لیے بھی کارکردگی کا معیار بلند ہوگا۔








