اقوام متحدہ ۔11نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کی شمالی دارفور ریاست میں شہری بحران تیزی سے بگڑ رہا ہے جبکہ ہمسایہ علاقے کردفان میں ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر 26 اکتوبر کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے …
شمالی دارفور اور کردفان میں تشدد جاری ہے ، اقوام متحدہ کی رپورٹ
اقوام متحدہ ۔11نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کی شمالی دارفور ریاست میں شہری بحران تیزی سے بگڑ رہا ہے جبکہ ہمسایہ علاقے کردفان میں ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر 26 اکتوبر کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد سے تشدد کا دائرہ شہر سے باہر دیگر علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ اہم شاہراہوں پر جھڑپوں کے باعث شہری پھنس گئے ہیں اور امدادی رسائی منقطع ہو چکی ہے۔
ییل اسکول آف پبلک ہیلتھ کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں الفاشر میں ممکنہ اجتماعی قبروں اور شہریوں کے استعمال میں آنے والے ایک اہم راستے کی بندش کی نشاندہی کی گئی ہے۔بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (آئی او ایم) کے مطابق 26 اکتوبر کے بعد سے تقریباً 89 ہزار افراد الفاشر اور اطراف کے دیہات سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ زیادہ تر متاثرین تَویلہ، ملیت اور صراف عمرا کے علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں۔اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ادارے ان علاقوں میں خوراک، صاف پانی، صحت، صفائی اور نفسیاتی معاونت سمیت بنیادی انسانی امداد فراہم کر رہے ہیں، تاہم ضرورتیں دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔اوسی ایچ اے کے مطابق الفاشر سے کچھ خاندان مغرب کی سمت تینہ کے علاقے کی طرف فرار ہوئے ہیں جو سوڈان-چاڈ سرحد کے قریب واقع ہے۔
مقامی رضاکاروں نے اطلاع دی ہے کہ وہاں تین ہزار سے زائد بے گھر افراد کو فوری خوراک، رہائش اور طبی امداد کی ضرورت ہے۔ادھر سرحد پار مشرقی چاڈ میں پہلے ہی دباؤ کے شکار میزبان برادریاں اور امدادی ادارے نئے مہاجرین کی آمد کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی کردفان کے ضلع دلّنگ کے اسپتال پر جمعرات کو ہونے والے حملے میں چھ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل ہے، جبکہ 12 افراد زخمی ہوئے۔ یہ اپریل 2023 میں تنازع کے آغاز کے بعد سوڈان میں صحت کے مراکز پر 192 واں حملہ تھا۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس کے مطابق حملے میں اسپتال کے ایکسرے یونٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جس سے اسپتال کی خدمات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے تمام طبی مراکز، مریضوں اور عملے کے تحفظ پر زور دیا۔اقوام متحدہ نے ایک بار پھر فوری جنگ بندی، شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ، اسپتالوں اور شہری ڈھانچوں پر حملے روکنے اور سوڈان بھر میں امدادی رسائی کے لیے محفوظ و غیر مشروط راستے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔









