شمالی کوریا کا اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ

شمالی کوریا نے اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ اردو نیوز نے شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے حوالہ سے بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اپنی بیٹی کے ہمراہ اس میزائل کے تجرباتی لانچ کی نگرانی کی۔ میزائل میں مبینہ طور پر میزائل کی پرواز کا راستہ درست کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا۔ …

پیانگ یانگ۔4اکتوبر (اے پی پی):شمالی کوریا نے اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ اردو نیوز نے شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے حوالہ سے بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اپنی بیٹی کے ہمراہ اس میزائل کے تجرباتی لانچ کی نگرانی کی۔ میزائل میں مبینہ طور پر میزائل کی پرواز کا راستہ درست کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا۔ اے ایف پی کے مطابق کم جونگ اُن کی بہن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے میزائل کم بلندی پر اپنی پرواز کا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کے حملے سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔

میزائل ہفتے کی صبح مشرقی ساحلی شہر وونسان کے قریب ایک مقام سے داغا گیا اور اس نے 700 کلومیٹر (435 میل) سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا۔ فوج نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کی انگریزی زبان میں جاری کردہ خبر کے مطابق، کم جونگ اُن نے میزائل کے تجربے کی نگرانی کے بعد کہا کہ آج کی اِس مشق کے ذریعے سٹریٹجک میزائلوں کا استعمال کرنے والے فوجیوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جوابی حملے کی تیاری کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی ذمہ دارانہ کوششیں بغیر کسی وقفے کے جاری رکھنی چاہییں تاکہ دشمن کو بار بار اور مسلسل ہماری جارحانہ سٹریٹجک صلاحیتوں کے قابلِ اعتماد اور تباہ کن ہونے کا احساس ہوتا رہے۔

کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کی جاری کردہ تصاویر میں ایک میزائل کو نارنجی شعلوں کے درمیان آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تجربہ ’ہائپرسونک سٹریٹجک ہتھیاروں کے نظام‘ کو چلانے والے فوجیوں کی تربیت میں مدد کے لیے کیا گیا۔یہ تجربہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب جنوبی کوریا کی فوج نے شمالی کوریا کی حکومت سے ایک دھماکے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا، جس میں تین جنوبی کوریائی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ جنوبی کوریا نے اس دھماکے کا الزام شمالی کوریا پر عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دھماکا غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں ہوا۔ شمالی کوریا کی حکومت نے گزشتہ ماہ ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے ۔