وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ والے دن جوائنٹ ایکشن کمیٹی نےبھی احتجاج کی کال دی ،ہمسایہ ملک اپنی پراکسی سے پاکستان کو عدم استحکام کرنا چاہتا ہے ۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں، طلال چودھری

مزید خبریں
اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ والے دن جوائنٹ ایکشن کمیٹی نےبھی احتجاج کی کال دی ،ہمسایہ ملک اپنی پراکسی سے پاکستان کو عدم استحکام کرنا چاہتا ہے ۔اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ کچھ روز قبل میڈیا کے سامنے ایک ایسے گروہ کے حوالے سے حقائق پیش کیے گئے تھے جو ہمسایہ ملک سے غیر قانونی طور پر اسلحہ پاکستان لاتا اور ملک میں بعض گروہوں کو فراہم کرتا تھا۔ آج اسی معاملے کی تحقیقات کے اگلے مرحلے میں مزید گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، جبکہ مزید فون کالز اور دیگر شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
طلال چودھری نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کشمیر نے وہی تاریخ احتجاج کے لیے مقرر کی تھی جو پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے لیے رکھی تھی۔ دونوں کے احتجاج کے طریقۂ کار اور دیگر کئی معاملات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ طویل مذاکراتی نشست کے بعد بھی معاملہ کامیاب نہ ہوسکا۔ وزیر داخلہ اس حوالے سے حقائق، پس منظر اور دیگر تفصیلات پریس کانفرنس میں سامنے رکھیں گے تاکہ معلوم ہوسکے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے سیاسی مفاد کے لیے صوبے میں بدامنی سے فائدہ اٹھا رہی ہے اور اپنی جمہوری، آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس روز پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تھا، اسی روز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی احتجاج اور ہڑتال کی کال دی، جسے کشمیر کے عوام نے یکسر مسترد کردیا۔ اسی طرح انتخابات میں آزاد کشمیر اور کشمیری عوام کو حصہ لینے سے روکنے اور انہیں اپنا فیصلہ خود کرنے سے محروم رکھنے کی کوشش تین مراحل میں کی گئی، تاہم تینوں مراحل میں بڑی تعداد میں لوگوں نے انتخابی عمل میں حصہ لے کر اس کال اور مہم کو مسترد کردیا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ کوشش یہ تھی کہ کسی طرح کشمیر کے عوام کو اپنے فیصلے سے روکا جائے اور دنیا کو یہ تاثر دیا جائے کہ کشمیریوں کے فیصلے کوئی اور کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کے حالات سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم اس میں بھی ناکامی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے بتایا جا رہا ہے کہ یہ محض سیاسی تحریک نہیں ہے۔ ہمسایہ ممالک نے جب براہ راست کارروائی کی تو انہیں دو سال قبل ہونے والی شکست آج تک نہیں بھولی۔ اسی لیے پاکستان کے خلاف پراکسیز پر سرمایہ کاری بڑھائی گئی۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود پراکسیز، ان کے ٹھکانے، تربیتی مراکز اور دیگر نیٹ ورک استعمال کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی۔طلال چودھری نے کہا کہ اگر ان پراکسیز کا سیاسی افراد، گروہوں یا سیاسی جماعتوں کے اندر موجود لوگوں سے گٹھ جوڑ ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی لوگ ان عناصر کو استعمال کر رہے ہیں یا عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر اور پراکسیز سیاسی لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے مختلف خدشات سامنے آنے کے بعد ضیا نامی شخص کو گرفتار کیا گیا، جو گزشتہ آٹھ برس سے غیر قانونی اسلحے کے کاروبار میں ملوث تھا۔ تحقیقات کے مطابق ان آٹھ برسوں کے دوران اس کے روابط سردار امان اور اس کے قریبی ساتھی ماجد سے قائم ہوئے۔وزیر مملکت کے مطابق ضیا نے اسلحے کا آرڈر دیا، افغانستان میں زرغون نامی شخص سے اسلحہ حاصل کیا، جو وہاں سے پاکستان کے قبائلی علاقے تک پہنچا۔ بعد ازاں اکبر نامی ایک سرکاری ملازم نے اپنی ملازمت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اسلحہ کشمیر تک پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ جب یہ حقائق سامنے آئے تو پریس کانفرنس کے ذریعے تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھی گئیں۔ اس کے بعد مزید تحقیقات ہوئیں اور تین مزید افراد کو گرفتار کیا گیا۔طلال چودھری نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری سے قبل سردار امان اپنی پریشانی کا اظہار کر رہے تھے اور کوشش کی گئی کہ گرفتار شخص کو طبی اور ذہنی طور پر غیر موزوں ثابت کیا جائے تاکہ معاملے کی ذمہ داری ان تک نہ پہنچے۔انہوں نے کہا کہ مختلف افراد، ڈاکٹروں اور دیگر لوگوں سے رابطہ کرکے کوشش کی گئی کہ سابقہ تاریخوں میں ایسے طبی سرٹیفکیٹس تیار کرائے جائیں جن سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ گرفتار شخص ذہنی طور پر بیمار ہے۔ جب یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو اس کے گھر والوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اسے ذہنی طور پر غیر موزوں قرار دیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ایک طرف یہ کوششیں جاری تھیں جبکہ دوسری طرف ایک ایسے شخص کی گرفتاری کے بعد بھی، جو گزشتہ آٹھ برس سے کشمیر میں اسلحہ فراہم کر رہا تھا، دیگر افراد کے ذریعے اسلحے کی فراہمی جاری رکھنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی کال سامنے آتی ہے، اس کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی اور اس کے نتیجے میں لوگ ہلاک ہوئے۔ اگر سکیورٹی فورسز طاقت کا بے دریغ استعمال کرنا چاہتیں تو تقریباً سوا سو روز سے جاری احتجاج اور دھرنے کے دوران، خصوصاً رات یا شام کے وقت جب وہاں چند ہی لوگ موجود ہوتے، انہیں وہاں سے ہٹانا مشکل نہیں تھا۔طلال چودھری نے کہا کہ آج تک طاقت کے استعمال میں پہل سکیورٹی فورسز نے نہیں کی۔ اس سے پہلے بھی بتایا گیا تھا کہ احتجاج کے دوران سنائپر رائفلز اور خودکار ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کسی اہلکار کے زخمی یا شہید ہونے کی صورت میں پوسٹ مارٹم سے گولی کی نوعیت اور فائرنگ کے زاویے کا تعین کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سنائپر رائفلز اور خودکار ہتھیاروں کے استعمال کی ویڈیوز بھی میڈیا کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ پہلے احتجاج کے ذریعے انتخابات رکوانے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ پہلے مرحلے میں میرپور اور آزاد کشمیر کے لاکھوں افراد ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلے۔ اسی روز اس عمل کو پس منظر میں دھکیلنے کے لیے پرتشدد احتجاج شروع کیا گیا، جس میں بعض ہلاکتیں ہوئیں اور الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سو سے سوا سو روز سے لوگ دھرنے میں بیٹھے ہیں اور انہیں سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے اس وقت تک طاقت کا استعمال نہیں کیا جب تک دوسری جانب سے فائرنگ یا مسلح حملہ نہیں کیا گیا۔طلال چودھری نے بتایا کہ مزید گرفتار ہونے والے تین افراد وقار حمید، محمد علی اور عمار سہیل ہیں اور ان تینوں کے روابط جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دو اہم افراد سے ملتے ہیں۔ اس موقع پر تین گرفتار ملزمان کے مبینہ اعترافی ویڈیو بیانات بھی میڈیا کے سامنے پیش کیے گئے۔وقار حمید نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ تین برس سے ایکشن کمیٹی سے وابستہ ہے اور اس کے مختلف پروگراموں اور دھرنوں میں شرکت کرتا رہا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ایکشن کمیٹی کی اعلیٰ قیادت امان، ادریس، خواجہ میران، ناظم اور عبدالمجید کے ساتھ رابطے میں ہے۔بیان کے مطابق 9 جون 2026 کو ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے دوران سردار امان کی ہدایت پر وقار حمید اپنے ساتھیوں عمار، بابر الطاف، بلال امین اور واصف ملکیشن کے ہمراہ ٹبلاکوٹ دھرنے میں شریک ہوا۔ اسے دھرنے کے ایک رکن کے گھر کی حفاظت پر مامور کیا گیا، جہاں وہ تقریباً 15 روز تک موجود رہا۔ بعد ازاں اسے مختلف مقامات پر نقل و حرکت اور دیگر ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے کہا گیا۔
بیان کے مطابق 23 جولائی کو ڈریگ سے ڈیچھو کی جانب پیش قدمی کے دوران مسلح افراد نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جبکہ انہیں ہدایات سردار امان اور خواجہ میران کی جانب سے دی جا رہی تھیں۔بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ 24 اگست 2026 کو جب فورسز کوٹلی سے بلوچستان کی جانب روانہ ہوئیں تو امان نے ماجد اور ناظم کو ہدایت کی کہ 40 سے 50 مسلح افراد کشمیر مورچے میں بھیجے جائیں تاکہ فورسز کو روکا جاسکے۔وقار حمید کے مطابق ان مسلح افراد میں کمانڈر رمیز، عبدالماجد، ناظم، اجمل خوشید، طیب خوشید، ساجد، بابا فرید، بلال، ارباب، اظہر سلطان، اسد الفقالو، یاسر، صفیر، جواد، سائم، ندیم، ارسلان، علی، عثمان، عباس اور عقیل شامل تھے۔ اس کے مطابق ان افراد نے مل کر سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ عبدالمجید اس وقت بھی اپنے مسلح افراد کے ساتھ کشمیر مورچے میں موجود ہے اور ان کے پاس مختلف قسم کے ہتھیار، سنائپر رائفلز، دستی بم اور پستول موجود ہیں۔وقار حمید کے مطابق 4 ستمبر 2026 کو وہ محمد علی کے ہمراہ کشمیر مورچے میں ماجد سے ملنے گیا، جہاں ماجد نے بتایا کہ ضیا نامی شخص، جو اسلحہ لینے گیا تھا، گرفتار ہوچکا ہے اور اسلحے کی شدید کمی ہے۔بیان کے مطابق 14 ستمبر 2026 کو ماجد نے اسے ایک نامعلوم شخص سے اسلحہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ وہ رات آٹھ بجے آزاد پتن سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئے اور 15 ستمبر کی صبح راولپنڈی پہنچے۔ محمد علی نے عمار کو اپنے ساتھ لیا اور وہ اسلحہ وصول کرنے کے لیے گئے۔
واپسی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں گرفتار کرلیا۔طلال چودھری نے کہا کہ اس بیان میں ایسی کئی چیزیں موجود ہیں جو تحقیقات کے دوران گرفتار افراد کے موبائل فونز، بیانات، فرانزک لیبارٹری اور دیگر شواہد سے بھی سامنے آئی ہیں، تاہم انہیں اس وقت میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا جا رہا کیونکہ یہ شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے اور عدالتی کارروائی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد کے موبائل فونز، بیانات، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد موجود ہیں جو وقت آنے پر عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔محمد علی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے ایکشن کمیٹی سے وابستہ ہے اور 9 جون 2026 سے عوامی ایکشن کمیٹی کے مختلف احتجاجی پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہے۔بیان کے مطابق 24 ستمبر 2026 کو جب رینجرز فورسز کشمیر مورچے کی طرف آئیں تو وقار حمید نے اسے بتایا کہ عبدالمجید اور ناظم کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ سکیورٹی فورسز کو کشمیر مورچے سے بلوچ کی طرف آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔محمد علی کے مطابق وہ کشمیر مورچے میں اکثر جاتا رہا اور وہاں وقار حمید اور اس کے ساتھی رینجرز اور سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرتے رہے۔
اس کے مطابق کشمیر مورچے میں عبدالمجید اور ناظم کشمیری کے ماتحت 40 سے 50 مسلح افراد موجود ہیں جن کے پاس کلاشنکوف، سنائپر رائفلز اور دستی بم موجود ہیں۔بیان کے مطابق 14 ستمبر 2026 کو عبدالمجید نے وقار حمید اور محمد علی کو بلایا اور راولپنڈی سے اسلحہ اور گولہ بارود لانے کی ہدایت کی۔ اس مقصد کے لیے انہیں ایک موٹر سائیکل اور 20 ہزار روپے دیے گئے۔محمد علی کے مطابق وہ شام کے وقت کشمیر سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئے اور صبح راولپنڈی پہنچے۔ وہاں عمار سہیل کو ساتھ لیا اور عبدالمجید کے ایک ساتھی سے رابطہ کیا۔ بعد ازاں وہ اس شخص سے اسلحہ اور گولہ بارود وصول کرنے کے لیے گئے۔ واپسی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں اسلحے سمیت گرفتار کرلیا۔عمار سہیل نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ضلع سدھنوتی کا رہائشی ہے اور مقامی سطح پر، خصوصاً بلوچ بازار میں، ایکشن کمیٹی کے پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ایکشن کمیٹی کی حمایت کرتا رہا ہے۔
بیان کے مطابق 14 ستمبر 2026 کو اس کے کزن محمد علی نے اسے فون کرکے بتایا کہ وہ کسی کام سے راولپنڈی آ رہا ہے اور واپسی پر اسے کشمیر لے جائے گا۔ 15 ستمبر کی صبح محمد علی اسے لینے آیا۔ دونوں موٹر سائیکل پر پیروتائی کی طرف روانہ ہوئے، جہاں محمد علی نے بتایا کہ ایک شخص سے اسلحہ اور گولہ بارود وصول کرنا ہے۔ وہاں ایک شخص سے اسلحہ وصول کیا گیا اور کشمیر کی جانب روانگی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں گرفتار کرلیا۔طلال چودھری نے کہا کہ گرفتار افراد کے معاملے کو بنیاد بنا کر ایک پرانی طرز کا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے بعض غیر سرکاری تنظیموں اور ایسے عناصر کی حمایت حاصل ہوتی ہے جو پاکستان کے خلاف گمشدہ افراد کا بیانیہ استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گمشدہ افراد کے معاملے کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض افراد خود کو سرگرمیوں میں شامل رکھنے اور ایک مخصوص بیانیہ بنانے کے لیے روپوش ہوجاتے ہیں یا گرفتار ہوجانے کے بعد انہیں گمشدہ افراد اور اغوا کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ یہ بیانیہ اب پرانا ہوچکا ہے۔ سردار امان جانتے تھے کہ بعض افراد گرفتار ہیں، ان کے اہل خانہ کو گرفتاری اور قانونی کارروائی سے آگاہ کیا گیا اور تحقیقات کے دوران بھی ان کے اہل خانہ اور دیگر متعلقہ افراد کو مطمئن کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود سردار امان نے گرفتار افراد کے بارے میں اغوا کا بیانیہ پیش کیا اور دیگر لوگوں کو بھی دھمکایا گیا کہ اگر انہوں نے ان افراد کے لیے آواز نہ اٹھائی تو ان کی آواز بھی خاموش کردی جائے گی۔طلال چودھری نے کہا کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پونچھ کو احتجاج کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے، آزاد کشمیر میں انتخابات ہوچکے ہیں اور ایک منتخب حکومت اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ پونچھ ڈویژن سے منتخب ہونے والے افراد حکومت میں وزیر اور مشیر ہیں جبکہ آزاد کشمیر کے صدر کا تعلق بھی پونچھ ڈویژن سے ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے صدر کئی مرتبہ کشمیری عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئے، وزیر اور دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے اور اب صدر آزاد کشمیر ہیں۔وزیر مملکت نے سوال کیا کہ کیا کشمیری عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے سے روکنے کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے گا اور آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کے حالات سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی؟
انہوں نے کہا کہ اس قسم کی کوششیں پہلے بھی ناکام ہوچکی ہیں اور اب بھی ناکام ہوں گی۔طلال چودھری نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر جھوٹے واقعات اور جعلی بیانیوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانیے کئی مرتبہ بے نقاب ہوچکے ہیں اور موجودہ معاملے میں بھی ایسا ہی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا کشمیر کے فیصلے کوئی اور کرے یا کشمیری عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق ہونا چاہیے؟وزیر مملکت نے کہا کہ یہ معاملہ 38 نکات سے شروع ہوا تھا، جن میں سے 37 نکات تسلیم کیے گئے۔ ان میں سے بعض پر مکمل عمل درآمد ہوچکا ہے جبکہ بعض پر عمل درآمد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس کے باوجود پُرتشدد احتجاج جاری ہے اور اس وقت بھی پونچھ کے علاقے میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو اسکولوں، کاروبار، دکانوں اور گھروں تک جانے سے روکنا کشمیری عوام کے مفاد میں نہیں ہوسکتا۔ بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا، کاروباری سرگرمیاں روکنا اور معمولات زندگی متاثر کرنا کسی بھی تحریک کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلحے اور بیرونی عناصر کی مدد سے اس طرح کی سرگرمیاں عوام کے حقوق کی جنگ نہیں ہوسکتیں۔طلال چودھری نے کہا کہ یہ وہ چند اہم حقائق ہیں جو میڈیا کے سامنے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 4 اکتوبر کو کشمیر میں احتجاج اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تاریخ کا ایک جیسا ہونا محض اتفاق نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ دونوں معاملات کے درمیان کئی روابط اور مماثلتیں سامنے آئی ہیں، جن کی تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھی گئی ہیں۔وزیر مملکت نے ایک بار پھر کہا کہ پونچھ کو احتجاج کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں انتخابات ہوچکے ہیں، ایک منتخب حکومت کام کر رہی ہے، پونچھ ڈویژن سے منتخب ہونے والے افراد حکومت میں وزیر اور مشیر ہیں اور آزاد کشمیر کے صدر کا تعلق بھی اسی ڈویژن سے ہے۔








