ملک بھر میں شمسی توانائی کا بڑھتا ہوا استعمال گھرانوں اور چھوٹے کاروباروں کو اپنی بجلی خود پیدا کرنے کے قابل بنا رہا ہے، جس سے روایتی ذرائعِ بجلی پر انحصار کم ہو رہا ہے اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔شمسی توانائی کا بڑھتا ہوا رجحان سستی اور قابلِ اعتماد بجلی کے حوالے سے عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ …
ملک بھر میں شمسی توانائی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی):ملک بھر میں شمسی توانائی کا بڑھتا ہوا استعمال گھرانوں اور چھوٹے کاروباروں کو اپنی بجلی خود پیدا کرنے کے قابل بنا رہا ہے، جس سے روایتی ذرائعِ بجلی پر انحصار کم ہو رہا ہے اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔شمسی توانائی کا بڑھتا ہوا رجحان سستی اور قابلِ اعتماد بجلی کے حوالے سے عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ شہری سورج کی روشنی کو توانائی کے ایک صاف اور قابلِ تجدید ذریعے کے طور پر اپنا رہے ہیں۔
ملک بھر میں گھروں، دکانوں، سکولوں اور چھوٹی فیکٹریوں کی چھتوں پر سولر پینلز اب ایک عام منظر بن چکے ہیں، خاندانوں کے ساتھ ساتھ کاروباری افراد بھی اپنی روزمرہ کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کے نظام کا رخ کر رہے ہیں۔شمسی توانائی کے اہم فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ صارفین کو براہِ راست سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے قابل بناتی ہے، یہ توانائی کا قابلِ تجدید ذریعہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گھریلو اور کاروباری سطح پر بجلی کی ضروریات کو زیادہ مؤثر طریقے سے منظم کرنے کا موقع بھی دیتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی کو اب نہ صرف بجلی کے متبادل ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اسے ایک ایسی دانشمندانہ سرمایہ کاری بھی سمجھا جا رہا ہے جو گھرانوں اور کاروباروں کو طویل مدتی فوائد فراہم کر سکتی ہے۔رہائشی اور تجارتی علاقوں میں سولر پینلز کی بڑھتی ہوئی موجودگی شفاف توانائی کے حل اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب عوام کے وسیع تر رجحان کی بھی عکاسی کرتی ہے۔بہت سے صارفین کے لیے، شمسی توانائی کی طرف منتقلی کا مقصد محض بجلی کے اخراجات میں کمی لانا نہیں بلکہ پاکستان کے لیے صاف ستھرے، سرسبز اور پائیدار توانائی کے مستقبل کا حصہ بننا بھی ہے۔شمسی توانائی استعمال کرنے والے خاندانوں کا کہنا ہے کہ اپنی بجلی خود پیدا کرنے کی صلاحیت نے انہیں خود انحصاری کا زیادہ احساس دلایا ہے اور طویل مدت کے لیے گھریلو اخراجات کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد دی ہے۔وفاقی دارالحکومت کے رہائشی شفیق احمد، جنہوں نے حال ہی میں 3 کلو واٹ کا سولر سسٹم نصب کروایا ہے نے کہا کہ ہم اپنے فیصلے سے بہت خوش ہیں۔ ہم دن کے وقت اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں اور ہمارا گھر روشن اور آرام دہ رہتا ہے۔
یہ ہمارے بجٹ اور ماحول، دونوں کے لیے اچھا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کی سہولت بھی حوصلہ افزا ہے، کیونکہ یہ صارفین کو دن کے وقت شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی استعمال کرنے اور اضافی بجلی گرڈ سسٹم میں منتقل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک صاف ستھرے اور سرسبز پاکستان کا حصہ بن کر اچھا محسوس ہوتا ہے۔ مذکورہ رہائشی نے بتایا کہ سولر پینلز کی تنصیب سے قبل ہمارے اہل خانہ کو دن کے اوقات میں گھریلو آلات کے استعمال کے حوالے سے محتاط رہنا پڑتا تھا۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہم دن کے وقت گھریلو آلات کے استعمال میں بہت احتیاط برتتے تھے۔ اب سولر کی بدولت ہم واشنگ مشین اور ریفریجریٹر اطمینان کے ساتھ چلا سکتے ہیں کیونکہ ہم اپنی صاف ستھری بجلی خود پیدا کر رہے ہیں۔چھوٹے کاروباروں کے مالکان بھی شمسی توانائی کو اپنا رہے ہیں اور اسے ایک ایسی عملی سرمایہ کاری سمجھتے ہیں جو انہیں بجلی کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔کپڑے سلائی کرنے والے ایک چھوٹے کاروباری، عالمگیر سعید نے کہا کہ شمسی توانائی ان کے کام کے لیے خاص طور پر مددگار ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کہاسولر میرے کام کے لیے بہت مفید رہا ہے کیونکہ میں اپنی سلائی مشینیں اور لائٹس بغیر کسی پریشانی کے چلا سکتا ہوں۔
گاہک بھی اس بات کو سراہتے ہیں کہ میری دکان ہمیشہ کھلی اور اچھی طرح روشن رہتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ میں اپنے کاروبار کے لیے کسی دیرپا حل کی تلاش میں تھا۔ وہ شمسی توانائی کو ایک بہترین سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سولر ایک بار کی جانے والی سرمایہ کاری ہے جو روزانہ فوائد فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی بھی چھوٹے کاروبار کے لیے ایک اچھی سرمایہ کاری ہے۔ایک سکول ٹیچر، عمرانہ یاسین نے کہا کہ شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے بچوں میں قابلِ تجدید توانائی کے بارے میں آگاہی بھی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کو قابلِ تجدید توانائی کے بارے میں پڑھایا تھا اور اب وہ اسے اپنی ہی چھت پر دیکھ سکتے ہیں۔انہوں نے گھر میں صاف ستھری توانائی کے استعمال کو اپنے خاندان کے لیے باعثِ فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ تجربہ بچوں کو عملی طور پر قابلِ تجدید توانائی کی اہمیت سمجھنے میں مدد دے رہا ہے۔







