شمسی، ہائیڈرو اور نیوکلیئر توانائی کا فروغ بحران سے نکلنے کا قابل عمل راستہ ہے، میاں کاشف اشفاق

شمسی، ہائیڈرو اور نیوکلیئر توانائی کا فروغ بحران سے نکلنے کا قابل عمل راستہ ہے، میاں کاشف اشفاق

لاہور۔5اپریل (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ ہائیڈرو پاور، نیوکلیئر توانائی، قابلِ تجدید ذرائع اور مقامی کوئلے کے استعمال میں اضافے سے پاکستان مستقبل کی توانائی ضروریات کو زیادہ محفوظ انداز میں پورا کر سکتا ہے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں شمسی توانائی کے تیزی سے فروغ کے باعث 2022 سے2024 کے دوران تیل اور گیس کی درآمدات میں تقریبا40 فیصد کمی آئی، جس سے اربوں ڈالر کی بچت ممکن ہوئی، جبکہ شمسی توانائی اب مجموعی بجلی کے استعمال کا20 سے25 فیصد حصہ بن چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیوکلیئر توانائی کا حصہ بڑھ کر16 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے، جو مستحکم اور سستی بجلی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے توانائی بچت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی موثر آلات کے استعمال اور عمارتوں کی اپ گریڈیشن سے بجلی کی کھپت میں50 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے، جو توانائی بحران پر قابو پانے کا کم لاگت اور موثر حل ہے۔