شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اقتصادی تعاون کو تیز اور شراکت دار ممالک کے ساتھ روابط کو وسعت دیں، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ماسکو میں ایس سی او کے سربراہی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اقتصادی تعاون کو تیز کریں، شراکت دار ممالک کے ساتھ روابط کو وسعت دیں اور ابھرتے ہوئے عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تنظیم کو جدید بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ماسکو میں ایس …

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اقتصادی تعاون کو تیز کریں، شراکت دار ممالک کے ساتھ روابط کو وسعت دیں اور ابھرتے ہوئے عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تنظیم کو جدید بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ماسکو میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ سربراہی اجلاس میں منظور کردہ مشترکہ اعلامیہ اور دستاویزات علاقائی خوشحالی کی جانب اجتماعی کوششوں کی رہنمائی میں بہت اہم ثابت ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا تجارت، معیشت، ثقافت اور انسانی ہمدردی پر پھیلا ہوا تعاون کا ایجنڈا ایک پختہ مستقبل پر مبنی تنظیم کی بنیاد رکھتا ہے۔ نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار نے حالیہ تیانجن سربراہی اجلاس کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او گہرے اقتصادی انضمام کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے توسیع شدہ تجارتی تعاون، بہتر انفراسٹرکچر کنکٹیویٹی، سرمایہ کاری کی شراکت داری اور ایس سی او کے خطے میں پائیدار ترقی کے اہم ستونوں کے طور پر ڈیجیٹل معیشتوں کے فروغ کا بھی ذکرکیا۔

انہوں نے انسانی ہمدردی کے تعاون اور آفات سے نمٹنے کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم کی صلاحیت کا بھی کیا اور کہا کہ پاکستان نے ”ٹیکنالوجی سے آراستہ فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم تیار کیا ہے۔ انہوں نے علاقائی تیاریوں کو مضبوط بنانے کےلئے رکن ممالک کے ساتھ فرضی مشقیں کرنے پر پاکستان کی رضامندی کا اظہار کیا۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے مبصر اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مضبوط مشغولیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی او آگے بڑھے اور ان ممالک کو ان کی مہارت کے مطابق پر اجیکٹ پر مبنی اقدامات میں شامل کرے۔

انہوں نے انگریزی کو ”ورکنگ لینگوئیج “کے طور پر متعارف کرانے کا بھی خیر مقدم کیا اور ایس سی او کی عالمی رسائی کو وسیع کرنے کےلئے ٹرانسلیشن یونٹس کے قیام کی تجویز پیش کی۔ نائب وزیر اعظم نے عملی تعاون کے لیے متعدد تجاویز کا خاکہ بھی پیش کیا جس میں ایس سی او انٹربینک کنسورشیم جیسے مالیاتی ٹولز کو فعال کرنا اور ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کےلئے کنکٹیویٹی اور تکنیکی تعاون کے منصوبوں کی مدد کےلئے منصوبوں کو آگے بڑھانا شامل ہے۔

نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نےانسانی سرمائے کی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایس سی او یونیورسٹی نیٹ ورک کو ایک کنسورشیم میں توسیع دینے کی وکالت کی جو کہ لاگو علم پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدام سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، زراعت، آبی وسائل کے انتظام اور ٹیلی میڈیسن سمیت اہم شعبوں میں طلباءکے تبادلے اور مشترکہ تحقیق کو فروغ ملے گا۔ علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایس سی او کو ”مشترکہ کامیابی کے لیے لانچ پیڈ“ کے طور پر کام کرنا چاہئے جو رکن ممالک کے درمیان زیادہ جدت، باہمی ربط اور انضمام کو فروغ دینے میں کردار ادا کرے۔