فیصل آباد۔2 جون (اے پی پی )ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ شکر قندی موسم گرما کی ایک اہم اور نقد آور فصل ہے جسے کم پانی اور تھوڑی کھاد سے بھی اگایا جا سکتاہے جبکہ اسکابیج بھی انتہائی کم خرچ ہے جس کے باعث کاشتکار بہترمالی منافع حاصل کر سکتے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ شکر قندی میں 30 سے 35 فیصد تک کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو انسانی جسم …
شکر قندی کو کم پانی اور تھوڑی کھاد سے بھی کاشت کیا جا سکتا ہے،زرعی ماہرین
فیصل آباد۔2 جون (اے پی پی )ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ شکر قندی موسم گرما کی ایک اہم اور نقد آور فصل ہے جسے کم پانی اور تھوڑی کھاد سے بھی اگایا جا سکتاہے جبکہ اسکابیج بھی انتہائی کم خرچ ہے جس کے باعث کاشتکار بہترمالی منافع حاصل کر سکتے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ شکر قندی میں 30 سے 35 فیصد تک کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو انسانی جسم کیلئے انتہائی مفید ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ شکر قندی کی کاشت ایسے کاشتکاروں کیلئے بھی بھاری مالی منفعت کا باعث بنتی ہے جن کے پاس فصلوں کی کاشت کیلئے زیادہ سرمایہ نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ شکر قندی کی کاشت میں بیج کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہوتا کیونکہ اس فصل کی کاشت کیلئے بیلیں کاٹ کر لگائی جاتی ہیں ۔









