شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، عطاء اللہ تارڑ
شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
کوہاٹ/پشاور۔ 21 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کوہاٹ کی فضا سوگوار ہے، دہشت گردی کے حالیہ دلخراش واقعہ میں اس دھرتی کے بہادر جوانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے خطے، صوبے اور ملک کو محفوظ کیا، انہوں نے اپنے بچوں کو یتیم کیا لیکن لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچایا، شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ کوہاٹ کے دورے کے موقع پر پارٹی ورکرز سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے آج سی ایم ایچ کوہاٹ میں دھماکے میں زخمی ہونے والے جوانوں سے ملاقات کی جن کا جذبہ قابل دید تھا۔ ایک شدید زخمی جوان نے کہا کہ ’’آخری خون کے قطرے تک لڑیں گے‘‘ جبکہ دوسرے جوان نے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کرکے انہیں شکست دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور پولیس کے جوانوں اور افسران نے آپریشن میں جس بہادری کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے۔ جو جوان چھٹی پر تھے وہ بھی دوبارہ یونیفارم پہن کر دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے پہنچ گئے۔ ان جوانوں کا حوصلہ اور جذبہ دیکھ کر امید بڑھی ہے کہ دہشتگردوں کو شکست دی جائے گی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ شہید فہیم کے والد نے بیٹے کی شہادت پر فخر اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے قوم کے بیٹوں کو شکست دینا ممکن نہیں جو اپنے پیاروں کی شہادت پر بھی فخر کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کردیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج دہشتگردی کے خلاف بھرپور قربانیاں اور جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بزدل ہیں اور چھپ کر وار کرتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا مقابلہ ایسی قوم سے ہے جو اپنے بہادر جوانوں پر ناز کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب کوہاٹ میں خون بہہ رہا تھا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کہاں تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سیاسی سرگرمیوں اور فوٹوشوٹ کے لیے لاہور میں موجود تھے، انہیں کوہاٹ آکر متاثرین اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے 15 منٹ تک ہیلی کاپٹر پر کوہاٹ کا چکر لگایا اور رخصت ہو گئے۔ کاش وہ شہداء کے گھروں میں جاتے مگر ان کے پاس وقت نہیں ہے، ان کے پاس انتشار پھیلانے اور دھرنوں کیلئے وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ساڑھے بارہ سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن امن و امان کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ دہشتگردی کے خلاف ڈیڑھ سو ارب روپے کے فنڈز کہاں خرچ ہورہے ہیں، صوبائی حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فنڈز سیاسی طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے جنید اکبر نے بیان دیا کہ ہم اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے، انہیں معافی مانگنی چاہئے، انہوں نے اپنے صوبے کو تو کھنڈر بنا دیا ہے، اب یہ ہر جگہ تباہی چاہتے ہیں جس کی ہر گز اجازت نہین دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبے میں ہسپتال اور یونیورسٹیاں بنائی جاتیں تو پورے پاکستان سے لوگ یہاں آتے۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے اور کوہاٹ ٹنل جیسے منصوبے نواز شریف کے دور میں مکمل کیے گئے، اگر ان منصوبوں کو نکال دیا جائے تو صوبے کی تعمیر و ترقی میں کیا باقی رہتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحہ، تربیت اور ضروری وسائل فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صوبے میں فرانزک لیب تک نہیں بنائی جاسکی اور فرانزک کے لیے لوگ پنجاب جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ فرانزک لیب کیوں نہیں بن سکی اور سی ٹی ڈی کی نئی فورس کیوں تشکیل نہیں دی جاسکی جبکہ فنڈز اور وسائل موجود ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ مجرم ہیں، اگر کسی مجرم کو چھڑوانا ہے تو عدالت سے رجوع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلحہ لے کر اسلام آباد آئے گا تو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی حکومت کو عوام کی خدمت اور ترقیاتی پروگراموں پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت اسی طرح کام کرتی رہی تو ایک وقت آئے گا جب صوبے کے عوام پوچھیں گے کہ فنڈز کہاں خرچ کیے گئے، عوام پر یا سیاسی امور پر؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تعمیر و ترقی پر پابندی یا سست روی کے حوالے سے صوبائی حکومت کو اپنی پالیسی واضح کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، کوہاٹ آکر شہداء کے لواحقین اور زخمیوں سے ملاقات سے حوصلہ بڑھا ہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا اور خیبرپختونخوا امن و ترقی کا گہوارہ بنے گا۔انہوں نے کہا کہ کوہاٹ کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے گی، اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کی ٹیم مسائل حل نہیں کرسکتی تو انہیں گھر چلے جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے ممکنہ اسلام آباد احتجاج کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی پرامن احتجاج نہیں کیا۔ پرامن لوگ ڈنڈے، کیل اور اسلحہ لے کر گھروں سے نہیں نکلتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں خواتین کو ہراساں کیا گیا، میٹرو اسٹیشنز اور درخت جلائے گئے، اس لیے اس نوعیت کے احتجاج کو پرامن نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ غیرپرامن جتھے کو اسلام آباد آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
وزیراعظم نے متعدد مرتبہ پارلیمنٹ میں مذاکرات کی پیشکش کی لیکن جب بھی بات چیت کی کوشش کی جاتی ہے تو سیاسی الزام تراشی شروع کردی جاتی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ احتجاج، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے سب سے زیادہ تاجر، کسان، مزدور اور دکاندار متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان لوگوں کا کیا قصور ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے کاروبار بند ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بجلی اور گیس کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے گی، تاہم صوبائی حکومت کو فنڈز کے بہانے کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے، ان سے حساب مانگیں گے، صوبائی حکومت کو یہ بتانا ہوگا کہ مائننگ کے ٹھیکے کس کو دیئے گئے، ان سے کتنی آمدن حاصل ہوئی اور کتنا ٹیکس وصول کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پہاڑوں اور درختوں کو کاٹا جا رہا ہے، ٹمبر مافیا بھی سرگرم ہے، ہم نے غیر قانونی سگریٹ کی فیکٹریاں بھی پکڑی ہیں، اڑھائی سو ارب روپے کی ٹیکس چوری ہے، کاش یہ پیسہ خیبر پختونخوا کے عوام پر لگایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ گولڈ مائننگ کی تفصیلات بتائی جائے کہ یہ ٹھیکے کس کو دیئے ہیں، کیا شفاف طریقے کے تحت دیئے گئے یا من پسند لوگوں میں بانٹے گئے ہیں، گولڈ مائننگ کے ٹھیکے سے کروڑوں روپے کا ٹیکس جمع ہوتا ہے جو یہاں کے عوام کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فنڈز کی بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہئے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کا مقصد عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی ہے، سیاسی کشیدگی اور احتجاج کے ذریعے عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں متعدد بار کہا کہ ہم بات چیت کرتے ہیں لیکن یہ غیر سیاسی لوگ ہیں اور انہوں نے ہمیشہ غیر سیاسی بات کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاجوں سے تاجر برادری کو ایک دن میں 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، سڑکیں بند ہوتی ہیں، ٹرانسپورٹ بند ہوتی ہے، تجارت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے، کیا یہ 120 ارب روپے سہیل آفریدی اپنی جیب سے ادا کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کا کیا قصور ہے کہ سڑکیں بند کر دیں، کاروبار بند ہو جائے۔ یہ اگر ترقی نہیں دے سکتے تو کم از کم ترقی کی راہ میں خلل تو نہ ڈالیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ بات چیت والے لوگ نہیں، اگر بات چیت کرنی ہوتی تو بہت پہلے کر چکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کوہاٹ سمیت خیبرپختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور خیبرپختونخوا کو امن و ترقی کا گہوارہ بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔







