کراچی۔ 31 جنوری (اے پی پی):میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ شہر میں واقع آئل ریفائنریز کی تنصیبات کے اطراف بلدیاتی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،نیشنل اور پاکستان ریفائنری کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو میونسپل یوٹیلیٹی چارجز ٹیکس کی مد میں 106.826 ملین روپے ادائیگی قابل تحسین عمل ہے، آئل کمپنیز اور دیگر متعلقہ ادارے کارپوریٹ سوشل رسپانسبیلٹی کی بنیاد پر کے …
شہر میں واقع آئل ریفائنریز کی تنصیبات کے اطراف بلدیاتی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے، میئر کراچی

مزید خبریں
کراچی۔ 31 جنوری (اے پی پی):میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ شہر میں واقع آئل ریفائنریز کی تنصیبات کے اطراف بلدیاتی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،نیشنل اور پاکستان ریفائنری کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو میونسپل یوٹیلیٹی چارجز ٹیکس کی مد میں 106.826 ملین روپے ادائیگی قابل تحسین عمل ہے، آئل کمپنیز اور دیگر متعلقہ ادارے کارپوریٹ سوشل رسپانسبیلٹی کی بنیاد پر کے ایم سی سے تعاون کریں تاکہ باہمی اشتراک کے ذریعے شہر کو بہتر بنایا جاسکے۔
بدھ کو جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز نیشنل ریفائنری اور پاکستان ریفائنری کے اعلی عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے سیکریٹری آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی)عائشہ مسعود کی سربراہی میں میئر کراچی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں میونسپل یوٹیلیٹی بلز کی مد میں نیشنل ریفائنری کی طرف سے 59.021ملین اور پاکستان ریفائنری کی طرف سے 47.805ملین روپے کا چیک پیش کیا۔ اس موقع پر میونسپل کمشنر سید افضل زیدی، مشیر مالیات امتیاز ابڑو، ڈائریکٹر فنانس وصی عثمانی، ڈائریکٹر میونسپل یوٹیلیٹی چارجز ٹیکس تسنیم احمد، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ کے منیجر لیگل اینڈ کارپوریٹ افیئرز محمد عامر فیروز، سینئر مینجمنٹ ایگزیکٹو لیگل شاہنواز خان جمالی، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے سینئر منیجر کنسٹرکشن ندیم اختر اور دیگر بھی موجود تھے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل اور آئل ریفائنریز کے ساتھ باہمی تعاون جاری رہے گا، شہر کے وسیع تر مفاد میں جو بھی فیصلے ضروری ہوئے بلاتاخیر کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ شیریں جناح کالونی میں ریفائنریز کی طرف جانے والی آئل لائن گزرنے کی جگہ پر سبزہ کاری اور فٹسال کے لئے جگہ تیار کی جائے جس سے یہ علاقہ خوبصورت اور بہتر نظر آئے گا اور علاقہ مکینوں کے مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام بڑے شہروں میں کارپوریٹ سوشل ذمہ داری (CSR) کی بنیاد پر کمرشل اور صنعتی ادارے شہر کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر خاص طور پر صنعتی زونز میں سہولیات کی فراہمی کے لئے یہ ضروری ہے کہ پبلک پرائیویٹ شراکت کے تحت منصوبے بنائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کا اس حوالے سے انتہائی اہم کردار ہے، کراچی میں کام کرنے والی دونوں ریفائنریز کے عہدیداران اس کونسل کے ممبرز ہیں اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے شہر کی بہتری کے لئے تجاویز دی جاسکتی ہے جن پر غور کیا جائے گا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ میونسپل یوٹیلیٹی چارجز ٹیکس کی مد میں ہونے والی وصولی کو بلدیہ عظمی کراچی کی جانب سے مختلف شعبوں میں شہری خدمات کی فراہمی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جن میں فائر بریگیڈ، طبی سہولیات، شہری انفراسٹرکچر کی مینٹی ننس، پارکس، کھیل کے میدانوں کی ترقی، نالوں کی صفائی، اراضی سے متعلق ریکارڈ کو محفوظ بنانا، پارکنگ کا انتظام، ٹریفک انتظامات میں مدد اور دیگر امور شامل ہیں۔ بلدیہ عظمی کراچی کے تمام وسائل کو شہر کی تعمیر و ترقی اور بہتری کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے اور شہریوں کے تعاون سے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔








