منشیات کا استعمال اور غیر قانونی سمگلنگ دنیا بھر کیلئے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، منشیات کے خطرات کی بدلتی نوعیت کے مطابق ہمارے ردعمل کو بھی تبدیل ہونا چاہیے،صدر آصف علی زرداری

صدر زرداری کا منشیات کے خلاف مؤثر اور جدید حکمتِ عملی اپنانے پر زور

اسلام آباد۔25جون (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ منشیات کے استعمال اور غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن ہمیں اس چیلنج پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے، یہ دن اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا بھی موقع ہے کہ منشیات کے خطرات کی بدلتی نوعیت کے مطابق ہمارے ردعمل کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔

منشیات کے استعمال اور غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں روایتی منشیات کے ساتھ ساتھ انتہائی خطرناک مصنوعی اور غیر قانونی نشہ آور اشیاء کی نئی اقسام سامنے آئی ہیں، جرائم پیشہ نیٹ ورک جدید مواصلاتی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا رہے ہیں، خریداروں اور فروخت کنندگان کو آپس میں جوڑ رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان سرگرمیوں کی مالی معاونت کے طریقے بھی زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں جن میں کرپٹو کرنسیوں اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع کا استعمال شامل ہے جو روایتی مالیاتی نظام کی حدود سے باہر کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور موبائل ایپلی کیشنز کو منشیات کے استعمال کی تشہیر، ترویج اور اسے معمول کی بات بنا کر پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، نقصان دہ اشیاء کو اکثر فیشن، بے ضرر تفریح یا کامیابی اور سماجی قبولیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ایسے پیغامات خاص طور پر نوجوانوں کو متاثر کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں جب ان کے نظریات، امنگیں اور احساس وابستگی تشکیل پا رہے ہوتے ہیں، ہر نسل اپنے گرد و پیش کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے اور اپنے ماحول سے متاثر ہوتی ہے، منشیات کی تجارت سے فائدہ اٹھانے والے عناصر اسی حقیقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، بعض حلقوں میں منشیات کے استعمال کو مرتبے، آزادی یا جدیدیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ تصورات نہایت خطرناک اور گمراہ کن ہیں، نشے، انحصار اور انسانی صلاحیتوں کی تباہی میں کوئی ترقی پسندی نہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ منشیات کے استعمال کے اثرات عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں نمایاں طور پر محسوس کیے جاتے ہیں، نشے کا شکار ایک طالب علم تعلیمی مواقع سے محروم ہو سکتا ہے، ملازمت کے میدان میں قدم رکھنے والا ایک نوجوان مستحکم مستقبل تعمیر کرنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے، متاثرہ افراد کے اہل خانہ اکثر جذباتی اور مالی بوجھ برداشت کرتے ہیں، اس کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندانوں، برادریوں اور پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اگرچہ غیر قانونی منشیات کی پیداوار، سمگلنگ اور تقسیم کے خلاف موثر کارروائی ناگزیر ہے، لیکن صرف قانون نافذ کرنے کے اقدامات اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہیں، ہمیں انسداد، تعلیم، آگاہی اور بحالی کے اقدامات کو بھی مضبوط بنانا ہوگا، منشیات پر انحصار کے شکار افراد مدد، علاج اور اپنی زندگی ازسرنو تعمیر کرنے کے مواقع کے مستحق ہیں، صحت یابی ممکن ہے اور بروقت معاونت حاصل کرنے والے بہت سے افراد بعد ازاں اپنے خاندانوں اور معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس سال کا موضوع ’’جاری مسائل، نئے چیلنجز اور منشیات سے پاک نسل کی تشکیل کے لیے اختراعی اقدامات‘‘ ہمارے عہد کی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے، یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حکومتوں، اداروں اور معاشروں کو چوکس رہنے اور ابھرتے ہوئے خطرات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع قومی کوشش درکار ہے، پارلیمان، انتظامیہ، ماہرین تعلیم، علمائے کرام، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد، کمیونٹی رہنما، والدین اور دانشور طبقے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا سماجی اور ثقافتی ماحول تشکیل دیں جو نوجوانوں کو صحت مند طرز زندگی اختیار کرنے اور مثبت مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری نوجوان نسل تعلیم، تخلیق، خدمت اور کامیابی میں اپنی تحریک تلاش کرے، نہ کہ ایسے مضر اثرات میں جو اس کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیں۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس موقع پر وہ ان تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اس جدوجہد میں صف اول میں خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، طبی ماہرین، اساتذہ، مشیران اور سول سوسائٹی کے اراکین شامل ہیں۔ ان کی لگن اور خدمات ہماری برادریوں کے تحفظ اور اس چیلنج کے خلاف اجتماعی ردعمل کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل اس کے عوام خصوصاً نوجوانوں کی فلاح، اعتماد اور امنگوں سے وابستہ ہے، اگر ہم مل کر منشیات کے استعمال کی روک تھام، صحت یابی کے عمل کی معاونت اور نقصان دہ اشیاء کو معمول کا حصہ سمجھنے کے رجحان کو مسترد کریں تو ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند، محفوظ اور پرامید معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو کامیاب فرمائے اور پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی سے نوازے۔

مزید خبریں