اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان عطا کیا۔ منگل کو ایوانِ صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی کابینہ کے اراکین، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، وزیرِ اعظم آزاد جموں …
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشیا کے صدرکو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان سے نوازا

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان عطا کیا۔ منگل کو ایوانِ صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی کابینہ کے اراکین، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف دی ایئر سٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف ، پارلیمنٹ کے اراکین اور سفارتی کور کے نمائندگان نے شرکت کی۔
قبل ازیں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات، مشترکہ اقدار اور پائیدار بنیادوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جو قائدِ اعظم محمد علی جناح اور صدر سوئیکارنو نے قائم کی تھیں۔دونوں صدور نے پاکستان اور انڈونیشیا کے دیرینہ تعلقات کو سراہتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ اقدار اور دیرپا خیرسگالی پر استوار ہیں ،انہوں نے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مزید قریبی تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔صدر آصف علی زرداری نے سوماترا میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے جانی نقصان اور تباہی پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے جاں بحق افرادکی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔دونوں رہنماؤں نے بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور جامع ترقی کے فروغ کے اپنے عزم پر بھی گفتگو کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ اصول مستقبل میں باہمی تعاون کی رہنمائی کریں گے۔انہوں نے دوطرفہ تجارت کا جائزہ لیا اور اقتصادی تعاون میں مسلسل اضافے پر اطمینان ظاہر کیا۔ صدرِ آصف علی زرداری نے پاکستان کی برآمدات میں تنوع اور متوازن تجارتی مواقع کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام کو تجارتی مسائل کے حل اور کاروباری روابط کے فروغ کے لیے ایک مؤثر فورم قرار دیا۔
ملاقات میں اقتصادی تعاون کے ممکنہ شعبوں پربھی تبادلہ خیال ہوا جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، حلال مصنوعات، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہیں۔دونوں ممالک نے ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں باہمی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا، کیوں کہ دونوں ممالک یکساں چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔دونوں صدور نے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، خصوصاً تربیت اور مشترکہ پیداوار کے ذریعے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کثیرالجہتی فورمز پر قریبی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا، جن میں اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے اور مسلم یکجہتی کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشیں شامل ہیں۔
ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدرِ مملکت نے معزز مہمان کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا۔وسیع اجلاس میں دونوں ممالک کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ انڈونیشیا کی جانب سے شریک افراد میں ایئرلانگا ہرتارتو وزیر برائے اقتصادی امور، وزیر خارجہ سوگیونو ،کابینہ سکریٹری ٹیڈی اندرا وجایا،وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ،سائنس و ٹیکنالوجی برائن یولیارتو ، ڈپٹی ہیڈ آف پرائیویٹ سیکریٹری آگُنگ سوراچمن ،چیف آف ایئر سٹاف ائیر چیف مارشل محمد ٹونی ہرچونو ،کمانڈر جنرل آرمی سپیشل فورسز لیفٹیننٹ جنرل جون آفریاندی ،ہیڈ آف ڈیفنس لاجسٹکس ایجنسی ائیر مارشل یوسف جاوہاری اور پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر شامل تھے۔
پاکستان کی جانب سے شرکاء میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ، وزیر تجارت جام کمال خان ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر ، سیکریٹری خارجہ اور انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر شامل تھے۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے مزید جائزے کے لیے علیحدہ ون آن ون ملاقات بھی کی۔تقریب کے بعد معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔








