اقوام متحدہ۔ 30 جنوری (اے پی پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لئے امن منصوبے کے اعلان کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے دو ہفتے کے اندر اندر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سفیر ریاض منصور نے کہا ہے کہ صدر محمود عباس فلسطینی قوم کے حقوق کے …
صدر محمود عباس کا ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لئے امن منصوبے کے خلاف سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔ 30 جنوری (اے پی پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لئے امن منصوبے کے اعلان کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے دو ہفتے کے اندر اندر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سفیر ریاض منصور نے کہا ہے کہ صدر محمود عباس فلسطینی قوم کے حقوق کے دفاع اور امریکی منصوبے کو مسترد کرنے کے لیے 15 دن کے اندر اندر سلامتی کونسل سے رجوع کریں گے۔ریاض منصور نے صدر عباس کی سلامتی کونسل سے رجوع کے لئے امریکہ کے سفر کے حوالے سے تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی صدر سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کا مسودہ پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ فروری کے پہلے ہفتے میں وہ افریقی سربراہ کانفرنس اور عرب وزارتی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ریاض منصور کا کہنا تھا کہ صدر عباس نیو یارک کے سفر سے قبل یورپی یونین کے مندوبین سے بھی مشاورت کرسکتے ہیں، جس کے بعد وہ سلامتی کونسل سے رجوع کریں گے۔فلسطینی سفیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امن بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کی صورت میں ہی ممکن ہے جس میں مشرقی بیت المقدس کو اس کے دارالحکومت کا درجہ حاصل ہو۔ اسرائیل 1967ءسے پہلے والی سرحدوں پر واپس جائے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کا کوئی جامع حل نکالا جائے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کا امن فارمولہ امن کی منزل تک پہنچنے کا پروگرام نہیں بلکہ امن سے دور کرنے اور فلسطینی قوم کی خواہشات،اس کے حق خود اردیت اور فلسطینی مہاجرین کے حقوق کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔








