آستانہ ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ افغانستان مسئلہ کا حل پاکستان کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی امن کی بحالی کے لئے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کی قدر کی جانی چاہئے۔دونوں رہنماوں نے یہ بات سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اسلامی سربراہ کانفرنس کے …
صدر مملکت ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات کے دوران گفتگو

مزید خبریں
آستانہ ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ افغانستان مسئلہ کا حل پاکستان کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی امن کی بحالی کے لئے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کی قدر کی جانی چاہئے۔دونوں رہنماوں نے یہ بات سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اسلامی سربراہ کانفرنس کے لئے آستانہ پہنچنے کے فوراً بعد باہمی ملاقات میں کہی۔اس موقع پر صدر اردوآن کابینہ کے اہم وزرا بھی موجود تھے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی امن وسلامتی کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ صدر اردوان نے خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی قربانیوں کی تعریف کی اور پاکستان کی حمایت کا مکمل اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی حکومت اور عوام کی خدمات تاریخی ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ اپنی یک جہتی کابھی اظہار کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کوترکی کی دوستی پر فخر ہے اور یہ دوستی آزمائش کے ہر معیار پر پوری اتری ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس موقع پر کہا کہ پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام نے جس طرح ترک بھائیوں کا ساتھ دیا ، ترک قوم اس پر پاکستانی قوم کی شکر گزار رہے گی۔ دونوں رہنماوں نے ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف مربوط کارروائیوں کی حمایت کی اور افغانستان کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جس کا حل پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مضمر ہے۔ملاقات میں روہنگیا کے مسلمانوں کی صورت حال پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماوں کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے دنیاکے ہر فورم پر آواز اٹھائی جانی چاہئے۔








