اسلام آباد ۔ 07 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مالیاتی استحکام کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ہبہ قوانین میں ترامیم زیر غور ہیں، اسلام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کی خصوصی تلقین کی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو ایوان صدر میں ویمن پارلیمانی کاکس کے …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ویمن پارلیمانی کاکس کے زیراہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 07 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مالیاتی استحکام کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ہبہ قوانین میں ترامیم زیر غور ہیں، اسلام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کی خصوصی تلقین کی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو ایوان صدر میں ویمن پارلیمانی کاکس کے زیراہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر مملکت نے کہا کہ مذکورہ ترمیم خواتین کو اپنے وراثتی حق کے حصول میں معاون ہو گی تاکہ کوئی ان پر اپنے قانونی حصہ کو خاندان کے ارکان کو ہبہ (تحفہ) کرنے کیلئے بے جا دباﺅ نہ ڈال سکے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کے بارے میں مکمل شعور کی حامل مالی طور پر مضبوط خواتین نئے پاکستان کی علمبردار ہیں۔ انہوں نے خواتین ارکان پارلیمان پر زور دیا کہ وہ خواتین کے مسائل بالخصوص تعلیم و صحت کی سہولیات کے فقدان کے حوالہ سے ویمن پارلیمانی کاکس کو بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین میں غذائی کمی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ، زچہ و بچہ کی صحت، کمزور نشوونما اور متعدی امراض کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس سے انہیں صحت مند زندگی بسر کرنے میں مدد ملے گی۔ صدر نے کہا کہ اسلام خواتین کے ساتھ منصفانہ برتاﺅ کا درس دیتا ہے، مردوں کو خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین میں زندگی کے چیلنجوں کا جرا¿ت مندی سے مقابلہ کرنے کی بہت صلاحیت ہوتی ہے۔ صدر نے اپنی والدہ اور اہلیہ کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی زندگی کو مثبت سمت پر گامزن رکھنے میں مدد دی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے کوشاں ہیں، جمہوریت میں خواتین کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں خواتین کے حقوق کا خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے، خواتین کو وراثت میں ہر طرح کے حقوق حاصل ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اسلام بہترین معاشرہ کے قیام پر زور دیتا ہے، دین کا بنیادی جزو انسانی حقوق ہیں، اسلام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کی خصوصی تلقین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تعلیمی اداروں میں 80 فیصد لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، خواتین نے مختلف شعبوں میں اپنی کارکردگی سے ترقی حاصل کی۔ خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین کی بڑی تعداد کی موجودگی اس امر کی یاد دہانی کراتی ہے کہ مواقع دستیاب ہونے پر خواتین کارہائے نمایاں انجام دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویمن پارلیمانی کاکس محترمہ فاطمہ جناح، رعنا لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کے وژن کی روشنی میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطہ میں جاری کشیدہ صورتحال میں ان کا پیغام امن کا پیغام ہے کیونکہ ہر تنازعہ میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ سیاست میں بھرپور شرکت کریں، اس سے نہ صرف خواتین کی بہبود یقینی ہو گی بلکہ امن کا مضبوط پیغام بھی پھیلے گا۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ اور سابق سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ ویمن پارلیمانی کاکس خواتین سے متعلق مسائل کے بارے میں جماعتی وابستگی سے قطع نظر اجتماعی آواز ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ارکان پارلیمان کو معاشرہ میں اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہئے اور دیگر خواتین کیلئے رول ماڈل بننا چاہئے۔ سیکرٹری ویمن پارلیمانی کاکس رکن قومی اسمبلی منزہ حسن نے کہا کہ صنفی عدم برابری سے سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہتر توازن سے بہتر دنیا تشکیل پاتی ہے۔ ممتاز گلوکارہ ٹینا ثانی نے اپنے نغمہ میں خواتین کے مثبت کردار کو اجاگر کرتے ہوئے حاضرین کو مسحور کیا۔ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے فنکاروں کی جانب سے ”کوکلا چھپاکی“ کے عنوان سے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا گیا جس میں معاشرہ میں خواتین کی جدوجہد اور کامیابیوں کے حصول کو اجاگرکیا گیا۔








