صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ایوان صدر میں پاکستانیت کے موضوع پر کتب کی تقریب رونمائی سے خطاب

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی قوم پر فخر ہے جو ابھرنے کیلئے تیار ہے، پاکستان واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور بھارتی جارحیت کے جواب میں امن کا پیغام دیا، آج ہندوستان مذہبی و نسلی بنیادوں پر انتشار کا شکار ہے، موجودہ حالات نے دو قومی نظریہ پر مہر …

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی قوم پر فخر ہے جو ابھرنے کیلئے تیار ہے، پاکستان واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور بھارتی جارحیت کے جواب میں امن کا پیغام دیا، آج ہندوستان مذہبی و نسلی بنیادوں پر انتشار کا شکار ہے، موجودہ حالات نے دو قومی نظریہ پر مہر ثبت کر دی ہے، پاکستانی ہزاروں سالہ قدیم تہذیب کے وارث ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ایوان صدر میں پاکستانیت کے موضوع پر کتب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود اور مصنفین جاوید جبار اور عصمت ریاض نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانیت اور میں پاکستان ہوں جیسے موضوعات پر یہ کتابیں ایک اچھا اضافہ ہیں، ہمیں اپنی قوم پر فخر ہے جس نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ یہ قوم ابھرنے کیلئے تیار ہے، پاکستانی ایک بڑی فراخدل قوم ہے، خیرات اور انسانی ہمدردی کے حوالہ سے اس کی کوئی مثال نہیں، دنیا ہمیں انسانیت کا درس دیتی ہے لیکن ہم نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی جبکہ 25 لاکھ مہاجرین کی اب بھی میزبانی کر رہے ہیں، دوسری طرف مغربی دنیا نے مہاجرین کو سمندر میں ڈوبنے دیا لیکن اپنے ملکوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں کسی ناگہانی صورتحال میں متاثرین کی مدد کیلئے ریاست سے پہلے قوم آگے بڑھتی ہے، یہ پہلو ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرکے دکھایا، پاکستان ایک مضبوط قوم ہے اور دہشت گردی کی عفریت کے سامنے دیوار بن چکی ہے ، اس جنگ میں ہماری قوم اور مسلح افواج نے بڑی قربانیاں دیں جو لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسے اس کا بھرپور جواب دیا گیا، بھارت میں جنگ کا ماحول پیدا کیا گیا لیکن پاکستان نے امن کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے، مذہبی یا نسلی بنیادوں پر انتشار قابو میں نہیں رہتا اور یہ طویل عرصہ چلتا ہے، آج ہندوستان خود اس گڑھے میں گر گیا ہے اور اس نے مذہبی اور نسلی بنیاد پر ظلم شروع کر رکھا ہے، آج کے حالات نے دو قومی نظریہ پر مہر ثبت کر دی ہے، قائداعظم کے سیاسی تدبر کے آج مخالفین بھی قائل ہو گئے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان عظیم اور قدیم تہذیبوں کا مرکز ہے، پاکستان کے بعض شہر کئی ہزار سال سے بدستور آباد ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ہزاروں سالہ قدیم تہذیب کے وارث ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر شفقت محمود نے شرکاءکا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دور حاضر کی ریاست مشترکہ قومیت پر مبنی ہے، یہ ایک نسبتاً نیا تصور ہے، پرانے زمانے میں ریاستیں جاگیر یا طاقت کی بنیاد پر قائم رکھی جاتی تھیں، اب زمانہ بدل رہا ہے، کسی بھی ریاست کو یکجا رکھنے کیلئے قومیت ایک اہم عنصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب قومی پائیداریت سے متعلق ہے، اس حوالہ سے جاوید جبار اور عصمت ریاض کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نیا نصاب ترتیب دے رہے ہیں اور دنیا کے بہترین نصابوں سے مطابقت پیدا کرتے ہوئے نئے نصاب میں پاکستانیت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید جبار نے اپنی تصانیف کے بارے میں شرکاءکو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستانیت کیا ہے“ اور ”پاکستان انوکھی تشکیل اور انوکھی تقدیر“ قومیت کے اعتبار سے منفرد تصانیف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تشکیل تمام ممالک میں منفرد کی نوعیت ہے، اس کا نام بھی ایجاد کیا گیا تھا، ہمیں پاکستانی قومیت کی شناخت کو سمجھنا ہو گا، اس حوالہ سے ان تصانیف کا مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1971ءکے سانحہ کے بعد دو قومی نظریہ ختم ہونے کی بات غلط ہے، اس سانحہ کے بعد دو قومی نظریہ کو مزید تقویت ملی ہیں۔ اس موقع پر عصمت ریاض نے اپنی تصانیف کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ پراجیکٹ پاکستانیت کے تحت پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلباءکیلئے 8 کتابیں مکمل کی گئی ہیں، اس کا مقصد نئی نسل کو پاکستان اور اس کی خوبیوں سے آگاہ کرنا ہے۔ تقریب میں مصنفین نے صدر مملکت کو اپنی کتابیں بھی پیش کیں۔