صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا اقوام متحدہ کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر پیغام

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اب بھی پائیدار امن اور بامقصد تعاون کے حوالہ سے انسانیت کیلئے بہترین امید ہے، عالمی امن و سلامتی سے پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی تک کے بڑے چیلنجز سے عہدہ برآں ہونے کیلئے تمام رکن ممالک کی جانب سے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان موجودہ اور آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے سلسلہ میں مذاکرات، سفارتکاری اور …

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اب بھی پائیدار امن اور بامقصد تعاون کے حوالہ سے انسانیت کیلئے بہترین امید ہے، عالمی امن و سلامتی سے پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی تک کے بڑے چیلنجز سے عہدہ برآں ہونے کیلئے تمام رکن ممالک کی جانب سے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان موجودہ اور آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے سلسلہ میں مذاکرات، سفارتکاری اور تعاون کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے مشن کو فروغ دینے کیلئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے، اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر منا رہا ہے، جنگ اور تباہی کے بعد وجود میں آنے والی اقوام متحدہ عالمی یکجہتی، خیرسگالی اور دوستی کی نمائندگی کرتی ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے ذریعے اس کے بانیان نے بین الاقوامی امن، سلامتی، اقتصادی ترقی، انسانی حقوق اور انسانی وقار کیلئے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس اہم موقع پر پاکستان کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے اصولوں و اس کے چارٹر کے مقاصد سے وابستہ رہنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون، ریاستوں کی علاقائی خود مختاری، طاقت کے عدم استعمال اور لوگوں کے حق خود ارادیت کے احترام کا پابند بناتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن دستوں میں سب سے بڑا اور طویل عرصہ سے حصہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1960ءسے 2 لاکھ سے زائد ہمارے بہادروں نے 26 ممالک میں 46 مشنز میں خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ 158 پاکستانی امن فوجیوں نے بین الاقوامی امن اور سلامتی کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سات مرتبہ خدمات سرانجام دیں اور اقتصادی و سماجی کونسل کی پانچ مرتبہ صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم حال ہی میں جنرل اسمبلی سے بھاری اکثریت کے ساتھ پانچویں مرتبہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھی منتخب قرار پائے ہیں۔ یہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے تین ستونوں بشمول امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق کے حوالہ سے بامقصد تعلق کا ثبوت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ تنازعات کے خاتمہ، انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات کے ذریعے جانیں بچانا اور تنازعات کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انسانی حقوق و انسانی احترام کے تحفظ میں مدد فراہم کرنا اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے کئے گئے وعدوں اور ان کے حق خود ارادیت کی تکمیل کی یاد دہانی کراتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظالم روکنے، فوجی محاصرہ اٹھانے، مواصلاتی رابطوں، نقل و حرکت و پرامن اجتماع پر عائد پابندی ہٹانے، متنازعہ خطہ میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے قوانین سمیت 5 اگست 2019ءکے بعد کئے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو واپس لینے، بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کی تشکیل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے سلسلہ میں بھارتی حکومت پر دباو ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اب بھی پائیدار امن اور بامقصد تعاون کے حوالہ سے انسانیت کیلئے بہترین امید ہے۔ عالمی امن و سلامتی سے پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی تک کے بڑے چیلنجز سے عہدہ برآں ہونے کیلئے تمام رکن ممالک کی جانب سے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان موجودہ اور آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے سلسلہ میں مذاکرات، سفارتکاری اور تعاون کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے مشن کو فروغ دینے کیلئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔