صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں ”انٹرنیشنل کانفرنس آن میڈیا اینڈ کنفلیکٹ“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے مضبوط عزم، پیشہ وارانہ مہارت اور تجربہ کے لحاظ سے سب سے آگے ہیں اور مادر وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گی، ہم کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے لیکن اپنے ملک کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ …

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے مضبوط عزم، پیشہ وارانہ مہارت اور تجربہ کے لحاظ سے سب سے آگے ہیں اور مادر وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گی، ہم کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے لیکن اپنے ملک کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے لڑنی ہے، یہ ہم دنیا کو سکھا سکتے ہیں۔ وہ منگل کو بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں ”انٹرنیشنل کانفرنس آن میڈیا اینڈ کنفلیکٹ“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام وزارت اطلاعات و نشریات اور پاکستان پیس کولیکٹیو (پی پی سی) کی جانب سے کیا گیا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات و نشریات شفقت جلیل، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر وائس ایڈمرل (ر) محمد شفیق اور پی پی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شبیر انور بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ معاشروں میں مختلف تنازعات جنم لیتے رہتے ہیں اور ان تنازعات کو ابھارنے یا حل کرنے میں میڈیاکا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے سرحد پر اشتعال کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے جو خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا واقعہ بھارت کے اندر ہوتا ہے اور اس کاالزام پاکستان پر عائد کردیا جاتا ہے جو بلاجواز ہے۔ صدر مملکت نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے اس صورتحال میں واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور یہ پاکستانی عوام کی آواز ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کا عزم بہت مضبو ط ہے، یہ اپنے تجربہ اور پیشہ وارانہ صلاحیت کے لحاظ سے دنیا میں سب سے آگے ہیں اور ملک پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کیں اور ملک سے اس لعنت کا خاتمہ کیا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے لڑنی ہے یہ ہم دنیا کو سکھا سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بروقت اقدام ہے، تنازعات میں میڈیا بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جہاں یہ مبصر کے ساتھ ساتھ اکثر اوقات ایک کردار کے روپ میں بھی سامنے آتا ہے۔ انہوں نے عراق کے مسئلہ پر میڈیا کی جانب سے جنگی ماحول پیدا کئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر یہ تنازعہ پیدا کیا گیا تھا۔ صدر مملکت نے کہا کہ میڈیا کو چاہیے کہ وہ لوگوں میں اپنی ساکھ قائم کرے، پیغام رساں پر اعتماد نہ ہو تو پیغام کی اہمیت نہیں رہتی ہے۔ انہوں نے در گزر اور برداشت کے رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہر انسان مختلف سوچ اور نظریات رکھتا ہے، ہمیں اپنے بچوں کو بہتر تعلیم و تربیت دینی چاہیے۔ قبل ازیں شبیر انور نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ صدر مملکت کی اس کانفرنس میں شرکت امن کے لئے ان کے عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد اور امن و ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان پیس کلیکٹیو کے پلیٹ فارم سے حق حقدار تک اور پرعزم پاکستان جیسے آگاہی کے پروگراموں کی کامیابی اور بحرانی کیفیت میں میڈیا کی زمہ داری اور کردار پر مبنی تربیتی پروگراموں کے بارے میں شرکاءکو آگاہ کیا۔ انہوں نے تنازعات کی صورتحال میں میڈیا کی افادیت کے بارے میں دو روزہ کانفرنس کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس حوالے سے سفارشات انتہائی معاون و مدد گار ثابت ہوں گی۔ اس موقع پر بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر وائس ایڈمرل (ر) محمد شفیق نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور اس کے اثرات کا اب بھی مقابلہ کیا جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات میں میڈیا کے مثبت اور تعمیری کردار کے پہلو زیرغور لائے جا رہے ہیں، توقع ہے کہ یہ کانفرنس اس حوالے سے پالیسی سازی کے لئے رہنمائی فراہم کرے گی۔ اس موقع پر صدر ممکت کو خصوصی یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

Leave a Reply