اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ٹیکنالوجی کے میدان میں جدت سے استفادہ کرتے ہوئے صحت، تعلیم اور دیگر سماجی و اقتصادی شعبوں میں بہتری کیلئے موبائل فون ایپلیکیشنز کے فروغ کیلئے ملک میں مزید ”ایپ انکوبیٹرز“ کے قیام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو یہاںعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ”ٹیکنالوجی کے ساتھ علمی معیشت کے لئے اجتماعی …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ”ٹیکنالوجی کے ساتھ علمی معیشت کے لئے اجتماعی عمل” کے زیر عنوان بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ٹیکنالوجی کے میدان میں جدت سے استفادہ کرتے ہوئے صحت، تعلیم اور دیگر سماجی و اقتصادی شعبوں میں بہتری کیلئے موبائل فون ایپلیکیشنز کے فروغ کیلئے ملک میں مزید ”ایپ انکوبیٹرز“ کے قیام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو یہاںعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ”ٹیکنالوجی کے ساتھ علمی معیشت کے لئے اجتماعی عمل“ کے زیر عنوان منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ صدر نے کہا کہ علم پر مبنی معیشت کی کئی جہتیں ہیں اور یہ نمایاں انداز میں ترقی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کمپنیوں اور اداروں نے ڈیٹا کی اہمیت کی نشاندہی اور ادراک کیا انہوں نے دنیا میں ترقی کی۔صدر نے کہا کہ دنیا کی 10 ممتاز کمپنیوں میں سے 7 کمپنیاں ایسی ہیں جو ڈیٹا پر مبنی ہیں ان میں فیس بک، ٹوئیٹر، ایپل، مائیکروسافٹ، گوگل، علی بابا جیسی نمایاں کمپنیاں ہیں۔ صدر نے ماضی میں اپنے حلقے کی آبادیاتی نوعیت کا جائزہ لینے کیلئے ڈیجیٹل نقشوں کے استعمال کے علاوہ ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر اپنے حامیوں تک رسائی کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبہ زندگی میں معلومات کے بہاﺅ کا انقلاب آچکا ہے لیکن بدقسمتی سے اِن معلومات تک ہماری رسائی بہت کم ہے، ہمیں ملک کی سماجی و اقتصادی مسائل پر قابو پانے اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے نئی ٹیکنالوجی کا بھر پور استعمال کرنا ہوگا اور اس خلا کو ہنگامی بنیادوں پر ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لئے ”ٹیکنالوجی کے ساتھ علمی معیشت کے لئے اجتماعی عمل“ ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر شعبہ زندگی بشمول ادویہ سازی، تعلیم، تدریس اورتعلیمی طریقوں وغیرہ میں نئی ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی نے انقلاب برپا کیا ہے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے صف میں شامل کرنے کے لئے ہمیں جلد از جلد معلومات کے بہاﺅ تک رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے تحت ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے روڈ میپ بنانے میں یہ کانفرنس بہت مفید ثابت ہوئیہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ علمی معیشت کے لئے اجتماعی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے اوپن یونیورسٹی ملکی و غیر ملکی تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک عمل میں توسیع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے مندوبین نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے مجموعی نقطہ نظر اپنایا۔عالمی کانفرنس کا اہتمام اوپن یونیورسٹی، ورچول یونیورسٹی، قرشی یونیورسٹی، یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈ اینمل سائنسز اور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے کیا تھا۔قرشی یونیورسٹی لاہور کے ایڈوائزر ¾ پروفیسر ڈاکٹر محمد نوازنے کانفرنس کا خلاصہ اور سفارشات پیش کئے۔کانفرنس کے بارے تاثرات بیان کرنے والے غیر ملکی نمائندوں میں ناروے کے اوٹو ایجنتھ، میرنوسٹرم، چین کے پروفیسر ہانگ رونگائے اور نٹالئی قن شامل تھے۔








