اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) روزگار کی فراہمی کے مواقع بڑھانے کیلئے یونیورسٹیوں اور صنعتی اداروں کے رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو چاہئے کہ وہ جدید صنعت اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو تربیت فراہم کریں۔ جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں ”مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی اور تعلیم کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے“ کے …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ہنرمندی اور تعلیم کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے“ بارے سیمینار کے اختتامی سیشن سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) روزگار کی فراہمی کے مواقع بڑھانے کیلئے یونیورسٹیوں اور صنعتی اداروں کے رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو چاہئے کہ وہ جدید صنعت اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو تربیت فراہم کریں۔ جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں ”مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی اور تعلیم کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور ہنرمندی پر مشتمل تربیت کے ذریعے تیار کریں تاکہ وہ جدید صنعت کی ضروریات کو پورا کر سکیں جس سے روزگار کی دستیابی میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان صنعتی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ صدر مملکت نے کہا کہ 25 یونیورسٹیوں کا چانسلر ہونے کی حیثیت سے میں ڈیجیٹل دور کی ضروریات کے مطابق تعلیمی نصاب کی بہتری اور اپ گریڈیشن کا کام کر رہا ہوں۔ جدید دور میں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ایپل، علی بابا اور ایمازون سمیت دنیا کی 10 بڑی کمپنیوں میں سے 7 کمپنیاں آئی ٹی اور ڈیٹا مارکیٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں جو پرکشش منافع کما رہی ہیں۔ صدر مملکت نے گذشتہ سالوں کے دوران چین کی جانب سے سیلیکون ویلی کی ترقی سمیت تکنیکی شعبہ کی ترقی کے حوالہ سے نمایاں کارکردگی کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر چین یہ کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں کر سکتا“۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اب چیزیں فنی و پیشہ وارانہ اور ہنرمندی کی تعلیم و تربیت سے آگے جا چکی ہیں اور اگر پاکستان کے عوام نے آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ترین تعلیم پر توجہ نہ دی تو وہ صرف ایک مزدور کے طور پر ہی کام کر سکیں گے۔ صدر مملکت نے تعلیمی اداروں کی طرف سے نوجوانوں کی اعلیٰ سطح پر ذہنی تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری یونیورسٹیاں جو بھی پیدا کریں وہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہئے۔ انہوں نے صنعت اور یونیورسٹیوں کے رابطوں کے اضافہ کی ضرورت پر زور دیا جو اس وقت انتہائی کمزور ہے، صنعتوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق پڑھے لکھے نوجوان پیدا کرنے کیلئے یونیورسٹیوں کی معاونت کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس حوالہ سے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کمیشن (نیوٹیک) اور ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) جیسے اداروں سے استفادہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی بڑی کامیابی سے لڑی ہے اور اس نے انتہاءپسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے جبکہ اس حوالہ سے دیگر ممالک ابھی تک جدوجہد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی تیار کردہ مصنوعات کو ایک ”برانڈ“ کے طور پر فروخت کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ نئے پاکستان کے نظریہ کے تحت ہم عوام کی ترقی کی پالیسیوں کی بنیاد پر اہداف حاصل کر سکتے ہیں جس پر موجودہ حکومت کام کر رہی ہے اور جلد ہی ہمارے خوابوں کی تکمیل ہونا شروع ہو جائے گی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل ذوالفقار عباس بخاری اور ڈائریکٹر جنرل نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) میجر جنرل عاصم اقبال نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور جدید دور میں ہنرمند انسانی وسائل کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔








