صدر ٹرمپ کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے مصنوعی ذہانت کے ضابطوں پر بات چیت متوقع
صدر ٹرمپ کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے مصنوعی ذہانت کے ضابطوں پر بات چیت متوقع

مزید خبریں
واشنگٹن۔29ستمبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان اور ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن سے ملاقات جلد متوقع ہے ، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی اور اس پر نگرانی کے لیے ضابطوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ملاقات میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ، اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی، این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ اور اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین کی شرکت بھی متوقع ہے۔ مائیک جانسن نے کہا ہے کہ بات چیت کا مقصد مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کے درمیان مناسب توازن پیدا کرنا ہے۔
حالیہ دنوں میں بعض مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کی صارفین کے کمپیوٹرز میں بغیر اجازت داخل ہونے کی اطلاعات کے بعد اس ٹیکنالوجی پر مزید نگرانی کے مطالبات بڑھ گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے اپنے اے آئی ایجنٹس کی صارفین کے کمپیوٹر پروگرامز میں بغیر اجازت مداخلت کرنے کے واقعات کی اطلاع دی ہے، جس کے بعد ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔صدر ٹرمپ اور جانسن کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ پابندیاں عائد کرنے سے امریکا کو چین کے مقابلے میں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جانسن نے کہا کہ جدت کا عمل جاری رہنا چاہیے، تاہم اس کے ساتھ مناسب نگرانی بھی ضروری ہے۔رائٹرز اور اِپسوس کے 17 سے 20 ستمبر کے دوران کیے گئے ایک ملک گیر سروے کے مطابق 73 فیصد امریکیوں کو خدشہ ہے کہ اے آئی کمپنیاں معاشرے کو بڑے نقصان سے بچانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہیں، جبکہ 55 فیصد افراد نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار سست کرنے کی حمایت کی۔صدر ٹرمپ کی جانب سے جون میں جاری کیے گئے ایک حکم کے تحت مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ نئی اور جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی عوام یا اپنے شراکت داروں کو فراہم کرنے سے پہلے حکومت کو جانچ کے لیے پیش کریں۔








