حکومت بلوچستان کے زراعت دوست وڑن اور کسان خوشحالی پالیسی پر سچے جذبے سے عمل پیرا ہوتے ہوئے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات پر محکمہ زراعت توسیع نے ضلع بھر میں زرعی (کھاد اور ادویات) کی معیار اور قیمتوں کی چیکنگ کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں
محکمہ زراعت توسیع نے ضلع بھر میں زرعی (کھاد اور ادویات) کی معیار اور قیمتوں کی چیکنگ کے لیے کارروائیاں تیز کر دیں

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی):حکومت بلوچستان کے زراعت دوست وڑن اور کسان خوشحالی پالیسی پر سچے جذبے سے عمل پیرا ہوتے ہوئے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات پر محکمہ زراعت توسیع نے ضلع بھر میں زرعی (کھاد اور ادویات) کی معیار اور قیمتوں کی چیکنگ کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔اسی سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے مختلف مارکیٹوں اور بازاروں میں زرعی ادویات اور کھاد کے ڈیلرز اور دکانوں کا اچانک معائنہ کیا۔معائن کے دوران انہوں نے مختلف دکانوں پر موجود کھاد کے اسٹاک، اس کی مقررہ سرکاری نرخوں پر فروخت، اور زرعی ادویات کی معیار، رجسٹریشن اور تاریخِ تنسیخ (Expiry Date) کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے کہا کہ "حکومتِ بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی واضح ہدایات ہیں کہ ضلع کے کسانوں کو معیار اور قیمت کے معاملے میں کسی صورت تنہا یا غیر محفوظ نہ چھوڑا جائے۔
جعلی، غیر معیاری اور نالائق زرعی ادویات کی فروخت اور کھاد کی مصنوعی قلت یا گرانفروشی میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔”انہوں نے ڈیلرز کو سخت تنبیہ کی کہ تمام دکاندار سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں کسانوں کو اصل اور رجسٹرڈ کمپنیوں کی معیاری ادویات و کھادیں فراہم کریں گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی یا جعلی ادویات کی فروخت کی صورت میں قانونی کارروائی کرتے ہوئے دکانیں سیل کی جائیں گی اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔محکمہ زراعت توسیع نے زمینداروں اور کسانوں پر بھی زور دیا کہ وہ کوئی بھی زرعی دوا یا کھاد خریدتے وقت سرکاری نرخ نامہ اور پکی رسید لازمی حاصل کریں، اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا شکایت کی صورت میں فوری طور پر محکمہ زراعت یا انتظامیہ کو مطلع کریں۔







