اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف)کے انتظامی، قانونی اور مالی معاملات سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں موجودہ صدر پی ایچ ایف کی نامزدگی کو قانونی قرار دیتے ہوئے ان پر دو ماہ کے اندر شفاف اور آزادانہ انتخابات کرانے کی ذمہ …
صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن کی نامزدگی قانونی قرار ،صدر کے انتخاب کے لئےدو ماہ میں شفاف اور آزادانہ انتخاب کرایا جائے ، مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد ، قومی اسمبلی ذیلی کمیٹی رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف)کے انتظامی، قانونی اور مالی معاملات سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں موجودہ صدر پی ایچ ایف کی نامزدگی کو قانونی قرار دیتے ہوئے ان پر دو ماہ کے اندر شفاف اور آزادانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ کمیٹی نے پی ایچ ایف میں مالی بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان معاملات کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کرنے کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ موجودہ صدر پی ایچ ایف کی تقرری آئین اور قواعد کے مطابق ہے کیونکہ یہ تقرری وزیراعظم پاکستان بطور پیٹرن اِن چیف کے اختیار سے عمل میں لائی گئی، جسے وزارتِ آئی پی سی، پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی)اور پی ایچ ایف کانگریس نے توثیق کی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صدر منتخب نہیں بلکہ نامزد ہیں، لہٰذا فیڈریشن کے باقاعدہ انتخابات پی ایس بی کی نگرانی میں کرانا لازم ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید وضاحت کی کہ موجودہ صدر طارق بگٹی کو کانگریس کی جانب سے اعتماد کا ووٹ ضرور ملا ہے، لیکن یہ باقاعدہ انتخاب تصور نہیں کیا جا سکتا۔
کمیٹی نے اس نکتے پر متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے ہدایت دی کہ پی ایچ ایف کے انتخابات دو ماہ کے اندر منعقد کیے جائیں اور اس حوالے سے واضح ٹائم فریم کمیٹی کو فراہم کیا جائے۔ صدر پی ایچ ایف نے کمیٹی کو جلد از جلد انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے دوران سیدہ شہلا رضا نے اس معاملے میں قانونی پہلوؤں کو مرحلہ وار حل کرنے پر زور دیا اور یہ نکتہ اٹھایا کہ نئے صدر کی تقرری اس وقت کیسے ممکن ہوئی جب موجودہ صدر ابھی مستعفی نہیں ہوئے تھے۔ کمیٹی نے اس نکتہ کو قانونی وضاحت کے تابع رکھتے ہوئے عارضی طور پر تقرری کو درست تسلیم کیا۔
رپورٹ میں پی ایچ ایف میں مالی بے ضابطگیوں اور شفافیت سے متعلق سنگین تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا۔ رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے نشاندہی کی کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے ماضی میں پی ایچ ایف کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کی تھی، جس کی 113 نکات پر مشتمل فرانزک رپورٹ تیار کر کے ایف آئی اے کے حوالے کی گئی۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ونگ نے کمیٹی کو بتایا کہ ان نکات میں سے متعدد پر تحقیقات جاری ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ پی ایچ ایف متعلقہ ریکارڈ فوراً ایف آئی اے کے حوالے کرے اور ایف آئی اے چھ تا آٹھ ہفتوں میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے۔سیکرٹری آئی پی سی نے کمیٹی کو بتایا کہ فیڈریشن کے مستقبل کے لائحہ عمل پر فیصلہ نئی منتخب باڈی کے چارج سنبھالنے کے بعد کیا جائے گا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت کی جانب سے کمیٹی ارکان کو انتخابی عمل کی پیش رفت سے باقاعدہ آگاہ رکھنے کے لیے ایک سرکاری رابطہ نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ذیلی کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ سی ڈی اے کے ترقیاتی فنڈ کا ایک فیصد حصہ اسلام آباد میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختص کیا جائے، پی ایچ ایف کے انتخابات دو ماہ کے اندر کرائے جائیں ، ضلعی، صوبائی اور قومی سطح پر تمام ہاکی کلبوں کی تفصیلات 10 دن کے اندر پاکستان سپورٹس بورڈ کو فراہم کی جائیں ، ایف آئی اے تحقیقات 6 تا 8 ہفتوں میں مکمل کر کے رپورٹ کمیٹی کو پیش کرے ، پی ایچ ایف وزارتِ آئی پی سی اور پی ایس بی کے ساتھ مکمل تعاون کرے تاکہ انتخابی عمل بروقت مکمل ہو۔
یہ رپورٹ شیخ آفتاب احمد کی سربراہی میں قائم ذیلی کمیٹی نے تیار کی، جس میں اراکین قومی اسمبلی انجم عقیل خان، وسیم قادر اور سیدہ شہلا رضا شامل تھیں۔ کمیٹی کے اجلاس 3 اور 23 ستمبر 2025 کو اسلام آباد میں وزارتِ آئی پی سی اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے کمیٹی رومز میں منعقد ہوئے۔کمیٹی کی سفارشات کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے معاملات میں شفافیت، قانونی تسلسل اور کھیل کے فروغ کے لیے نئے اقدامات عمل میں لانے کا فیصلہ پاکستان میں قومی کھیل کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔







