واشنگٹن ۔24فروری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یو ایس ایڈ کےنصف سے زیادہ ملازمین کو فارغ یا جبری رخصت پر بھیج دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یو ایس ایڈ کے ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کی ابتدائی کوشش کو قانونی چیلنج کے ذریعے روکے جانے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ادارے کے …
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یو ایس ایڈ کےنصف سے زیادہ ملازمین کو فارغ یا جبری رخصت پر بھیج دیا

مزید خبریں
واشنگٹن ۔24فروری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یو ایس ایڈ کےنصف سے زیادہ ملازمین کو فارغ یا جبری رخصت پر بھیج دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یو ایس ایڈ کے ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کی ابتدائی کوشش کو قانونی چیلنج کے ذریعے روکے جانے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ادارے کے تقریباً 4,200 ملازمین کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیاہے اور کم از کم 1,600 ملازمین کو برطرف کر دیا گیاہے۔قبل ازیں امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے یو ایس ایڈ کو بند کرنے کے منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا تھا لیکن جمعہ کو فیصلہ دیا کہ یہ وقفہ مستقل نہیں ہوگا۔ 1961 میں قائم ہونےوالے اس ادارے کے ملازمین کی تعداد تقریباً 10,000 تھی۔
آفس آف ایڈمنسٹریٹر کی طرف سے یو ایس ایڈ کے ملازمین کودیئے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ اہم کام یا قیادت کے ذمہ دار نامزدملازمین انتظامی چھٹی سے مستثنیٰ ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ملازمین کو ادارے میں رکھا جائے گا، لیکن قبل ازیں یو ایس ایڈ نے 611 اہلکاروں کو ادارے کے لئے ضروری قرار دیا تھا جس کا مقصد بیرون ملک مقیم عملے کے لئے رضاکارانہ واپسی کے سفر کے لئے فنڈز فراہم کرنا ہے۔ یہ پیشرفت جمعہ کو واشنگٹن ڈی سی میں جج کارل نکولس کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ یو ایس ایڈ کے ملازمین کو نکالنے کے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھا سکتی ہے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یو ایس ایڈ کے جو عملہ چھٹی پر رکھا جا رہا ہے انہیں آخرکار دوبارہ ملازمت پر رکھا جائے گا، یا ان کے عہدوں کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔ٹرمپ انتظامیہ ایلون مسک کی قیادت میں ایک مہم میں وفاقی افرادی قوت کو کم کرنے اور اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے یو ایس ایڈ پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد ایجنسی کا نام اس کی سابقہ عمارت سے ہٹا دیا گیا ہے، اور یہ جگہ اب کسٹمز اور بارڈر پٹرول کے ایجنٹس کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شنسی کے سربراہ ایلون مسک امر یکا کے بڑے پیمانے پر بیرون ملک اخراجات پر تنقید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے ادارے پربدعنوانی کے ساتھ ساتھ فضول خرچی کا الزام لگایا ہے۔یو ایس ایڈ کے خلاف نئی امریکی انتظامیہ کے اقدامات نے عالمی امدادی نظام کو متاثر کیا ہے اور دنیا بھر کے کئی ممالک میں سیکڑوں پروگرام منجمد ہو چکے ہیں کیونکہ امریکا اب تک دنیا بھر میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والا سب سے بڑا واحد ملک ہے۔
یو ایس ایڈ کے سابق سربراہ گیل سمتھ نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا تھا کہ ادارے کو بند کر کے ہم دنیا کو یہ خطر ناک پیغام دے رہے ہیں کہ ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ لوگ زندہ ر ہیں یا مر جائیں اور یہ کہ ہم قابل اعتماد شراکت دار نہیں ہیں۔








