ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ نے کہا ہے کہ خواتین کو انصاف تک مساوی رسائی، محفوظ ماحول اور فیصلہ سازی کے عمل میں موثر نمائندگی فراہم کرنا ایک منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ صنفی حساس نظامِ انصاف کے قیام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ کوششیں کر نی ہوں گی تاکہ خواتین، بالخصوص تشدد سے متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کو بروقت اور موثر انصاف میسر …
صنفی حساس نظامِ انصاف کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈپٹی سپیکربلوچستان اسمبلی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 29 جون (اے پی پی):ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ نے کہا ہے کہ خواتین کو انصاف تک مساوی رسائی، محفوظ ماحول اور فیصلہ سازی کے عمل میں موثر نمائندگی فراہم کرنا ایک منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ صنفی حساس نظامِ انصاف کے قیام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ کوششیں کر نی ہوں گی تاکہ خواتین، بالخصوص تشدد سے متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کو بروقت اور موثر انصاف میسر آ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کوعورت فاؤنڈیشن، یو این ویمن (UN Women) اور جرمن سفارت خانے کے تعاون سے’’پاکستان میں صنفی مساوات کے فروغ کے ذریعے صنفی حساس نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے‘‘ کے منصوبے کے اختتام پر منعقدہ صوبائی خواتین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس میں عورت فاؤنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علاؤالدین خلجی، صوبائی محتسب برائے ہراسیت طاہرہ بلوچ، اے آئی جی جینڈر اسرار احمد عمرانی، یو این ویمن کی صوبائی سربراہ عائشہ ودود، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر اسد حسن علوی، محکمہ صحت سے ڈاکٹر سبینہ بلوچ، ایسوسی ایٹ پروفیسر فائزہ میر، منیجر جی بی وی ہیلپ لائن اشفاق مینگل، وزارتِ انسانی حقوق کے ڈائریکٹر اسفند یار بادینی، پروگرام آفیسر یاسمین مغل سمیت مختلف سرکاری اداروں، عدلیہ، پولیس، سول سوسائٹی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے شرکت کی۔
عورت فاؤنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علاؤالدین خلجی نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پولیس، عدلیہ، محکمہ استغاثہ، بلوچستان بار کونسل، متعلقہ سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے دوران ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ، صنفی حساس پالیسیوں کے فروغ، عوامی آگاہی مہمات، Gender Responsive Institutions (GRIs) پر دستاویزی ویڈیو کی تیاری، خواتین کی قیادت کو فروغ دینے، ریفرل میکانزم کو مضبوط بنانے اور انصاف سے وابستہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کے لیے عملی اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں بلوچستان میں خواتین کے لیے انصاف تک رسائی بہتر بنانے اور صنفی حساس نظامِ انصاف کو مضبوط کرنے میں نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی۔
یو این ویمن کی صوبائی سربراہ عائشہ ودود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عورت فاؤنڈیشن کے ساتھ شراکت داری میں اس منصوبے کا مقصد بلوچستان میں صنفی مساوات کے فروغ کے ذریعے صنفی حساس انصاف کو مضبوط بنانا اور خواتین، بالخصوص تشدد سے متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف تک بہتر رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور بجٹ سازی میں نظامی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ساختی عدم مساوات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نےکہا کہ یو این ویمن نے بلوچستان میں خواتین کی ادارہ جاتی نمائندگی بڑھانے، ان کی معاونت کے لیے وسائل کی فراہمی اور صنفی حساس نظام کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، تاہم موجودہ قوانین پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔
پروگرام آفیسر یاسمین مغل نے شرکا کو منصوبے کی سرگرمیوں اور حاصل ہونے والی کامیابیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کے دوران پولیس، عدلیہ، محکمہ استغاثہ، بلوچستان بار کونسل، متعلقہ سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ، صنفی حساس پالیسیوں کے فروغ، آگاہی مہمات، خواتین کی قیادت کو مضبوط بنانے، ریفرل میکانزم کی بہتری اور مختلف اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری پر کام کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ مقررین نے منصوبے سے حاصل ہونے والے تجربات، کامیابیوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں خواتین کے تحفظ، صنفی مساوات اور انصاف تک مساوی رسائی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کی رکن روشن خورشید بروچہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عورت فاؤنڈیشن نے نہ صرف خواتین کے حقوق کے تحفظ اور قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ آگاہی مہمات، وسائل کی فراہمی اور خواتین کو سیاست میں متحرک کرنے کے لیے بھی مسلسل جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد خواتین نے عورت فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور آج پارلیمان سمیت اہم فیصلہ ساز اداروں کا حصہ ہیں۔عورت فاؤنڈیشن نے منصوبے کی کامیاب تکمیل پر یو این ویمن، جرمن سفارت خانے، پولیس، عدلیہ، محکمہ استغاثہ، بلوچستان بار کونسل، محکمہ انسانی حقوق، محکمہ صحت، سول سوسائٹی کے شراکت داروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔








